ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ کو وفاقی وزیر خزانہ نے وفاقی اناملی کمیٹی ( بزنس) کا شریک ِ چیئرمین مقرر کر دیا
کراچی (19 جون 2026) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹرسی نے کہا ہے کہ نے وفاقی خزانہ و محصوالت کی جانب سے اناملی کمیٹی )بزنس( کی ازس ِر نو تشکیل اور ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف قاب ذکر ہے کہ ِل اکرام شیخ کو اس کا شریک چیئرمین مقرر کیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔یہ امر مذکورہ کمیٹی حال ہی میں اعالن کردہ وفاقی بجٹ 27-2026 میں موجود تضادات، خامیوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی، جائزہ اور ان کے حل کے لیے قائم کی گئی ہے؛ تاکہ مالیاتی پالیسیوں کو کاروباری ماحول کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔اس اہم کمیٹی کی قیادت میں ایف پی سی سی آئی کی شمولیت حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ معاشی پالیسی سازی اور نجی شعبے کے عملی تقاضوں کے درمیان موجود خال کو مؤثر انداز میں کم کیا جائے۔اس پیش رفت پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ہم وفاقی کہا کہ ہم وفاقی سراہتے ہیں۔ وفاقی بجٹ میں موجود مالیاتی اور ٹیرف سے متعلقہ بے ضابطگیوں کا فوری ازالہ نہ صرف انتظامی خامیوں کی اصالح کے لیے ضروری ہے؛ بلکہ صنعتی سرگرمیوں کے تسلسل، برآمدی مسابقت کے تحفظ اور وسیع تر معاشی اہداف کے حصول کے لیے بھی ناگزیر ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ شریک چیئرمین کی حیثیت سے ان کی کوشش ہوگی کہ ٹیکس سے متعلق اقدامات معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں؛ خصوصا ایسے وقت میں جب کاروباری الگت پہلے ہی بلند ہے اور معیشت ساختی اصالحات کے مرحلے سے ً گزر رہی ہے۔عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ اناملی کمیٹی )بزنس( تجارتی اور صنعتی شعبوں کے لیے ایک بنیادی ادارہ جاتی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی، جہاں وہ مالیاتی بل میں موجود غیر ضروری ٹیکس بوجھ، ضابطہ جاتی رکاوٹوں اور دیگر تضادات کے بارے میں شواہد پر مبنی تجاویز اور اعتراضات پیش کر سکیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایف پی سی سی آئی کے شعبہ جاتی اور تکنیکی ماہرین پہلے ہی بجٹ میں موجود ان خامیوں اور بے ضابطگیوں کی جامع اور اعداد و شمار پر مبنی فہرست تیار کرنے میں مصروف ہیں، جو بالخصوص مینوفیکچرنگ، برآمدات اورمعیشت کے دیگر شعبوں پر غیر متناسب اثرات مرتب کریں گی۔ایف پی سی سی آئی نے باضابطہ طور پر اپنے تمام الحاق شدہ چیمبرز، ایسوسی ایشنز اور تجارتی اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ اعداد و شمار کے ساتھ اپنی نشاندہی کردہ بے ضابطگیوں کی تفصیالت ایف پی سی سی آئی سیکریٹریٹ کو ارسال کریں۔شریک چیئرمین کی کے ساتھ Federal Board of Revenue (FBR) حیثیت سے ایف پی سی سی آئی کے صدر ِ وزارت خزانہ اور براِہ راست رابطہ رکھیں گے؛ تاکہ فنانس ایکٹ کے حتمی نفاذ سے قبل ان مسائل کا فوری اور منصفانہ حل یقینی بنایا جا سکے
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی
