ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے فیصلے کی مذمت کر دی ثاقب فیاض مگوں، قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر ثاقب کے اجالس کے بعد کلیدی (MPC) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (SBP) فیاض مگوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ایف پی سی سی آئی نے اس فیصلے کو پالیسی'' قرار دیتے ہوئے کہا شرح سود برقرار رکھنے سے (Contractionary) معاشی سکڑاؤ پر مبنی شرح سود برقرار رکھنے سے ِ معاشی سرگرمیاں مزید سست ہوں گی، کاروباری اداروں کی مالی وسائل تک رسائی محدود ہوگی اور ملک میں صنعتی بحالی کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے اسٹیٹ بینک ِ کے محتاط شرح سود میں کمی کی جائے ِ طرز عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کو توقع تھی کہ گی؛ تاکہ کاروبار کرنے کی بڑھتی ہوئی الگت کم ہو اور تجارت و صنعت کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں سہولت مل سکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حاالت میں پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنا کاروباری برادری کی توقعات کے برعکس ہے؛ کیونکہ پاکستانی صنعت اور برآمد کنندگان پہلے ہی بلند توانائی نرخوں اور انتہائی زیادہ مالیاتی الگت کے باعث شدید مشکالت سے دوچار ہیں۔ثاقب فیاض مگوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حاالت میں صنعتوں کو چالنا اور عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنا اتنی بھاری مالی الگت کے ساتھ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق، قاب استطاعت بنانے اور معیشت کو دوبارہ متحرک ِل پیداواری الگت کم کرنے، اشیا و خدمات کو عوام کے لیے زیادہ کرنے کے لیے سنگل ڈیجٹ ِ شرح سود ناگزیر ہے۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اور ریجنل چیئرمین سندھ ِ عبدالمہیمن خان نے کہا کہ بنیادی اف ِ راط زر میں استحکام کے باوجود شرح سود کو مسلسل بلند رکھنا ایک غیر ضروری اضافی بوجھ ہے جس کی کوئی معاشی توجیہ نہیں بنتی۔ ان کے مطابق سرمایہ حاصل کرنے کی بلند الگت صنعتوں کی بندش اور پاکستانی برآمد کنندگان کی عالمی مسابقت میں کمی کی بنیادی وجہ بن چکی ہے۔عبدالمہیمن خان نے خبردار کیا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اس فیصلے کے فوری منفی اثرات ملک کے تجارتی مراکز اور مجموعی معاشی استحکام پر مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شرح سود برقرار رکھنے سے کاروباری ماحول متاثر ہوگا، نئی ِ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور تیز رفتار معاشی بحالی کی امیدیں مزید کمزور پڑ جائیں گی۔ایف پی سی سی آئی کا مؤقف ہے کہ کاروباری برادری پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لٰہذا صنعتی پیداوار میں اضافے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور قیمتوں میں استحکام النے کے لیے کاروبار دوست مالیاتی پالیسی اور سنگل ڈیجٹ ِ شرح سود انتہائی ضروری ہے۔ ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر فوری نظرثانی کرے اور ایسے اقدامات کرے جو کاروبار کے تسلسل اور معاشی ترقی کو حقیقی معنوں میں فروغ دیں۔ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مالیاتی پالیسی میں فوری اصالحات کے لیے واضح روڈ میپ پیش کرے۔ایف پی سی سی آئی نے خبردار کیا کہ اگر زمینی حقائق کے مطابق فوری طور پر شرح سود کو سنگل ڈیجٹ سطح پر نہ الیا گیا تو رواں مالی سال کے برآمدات میں اضافے اور صنعتی ِ توسیع کے قومی اہداف کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔ (2026 جوالئی 27) کراچی
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی
