FORGOT YOUR DETAILS?

ایف پی سی سی آئی ملکی برآمدات میں جی ایس پی پلس کے اہم ترین کردار کو سراہتی ہے حکومت سے ایکسپورٹرز کے لیے سہولیات کا مطالبہ کرتے ہیں عاطف اکرام شیخ،صدر ایف پی سی سی آئی

کراچی (9 ستمبر 2026)یف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے یورپی یونین کے جنرالئزڈ اسکیم کے پاکستان کی برآمدات کے فروغ میں اہم کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ جی ایس (GSP+) آف پریفرنسز پلس پی پلس کی بدولت گزشتہ ایک دہائی کے دوران یورپی یونین کو پاکستانی برآمدات میں 108 فیصد نمایاں اضافہ ہوا؛ جو کہ قومی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہوا ہے۔عاطف اکرام شیخ نے یورپی یونین اور پاکستان میں اس کے مشن کی جانب سے مسلسل معاونت پر گہرے تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستانی مصنوعات کی ایک بڑی تعداد یورپی مارکیٹ میں صفر یا ترجیحی ٹیرف پر رسائی حاصل کر رہی ہے۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے لیے ایک قاب ِل قدر اقتصادی شراکت دار ثابت ہوئی ہے۔ جی ایس پی پلس کے تحت برآمدات میں تاریخی اضافہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات اور پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے پیدا کیے گئے سازگار ماحول کا براِہ راست ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کاروباری برادری کو ایک بڑی اور اہم برآمدی منڈی فراہم کرتا ہے اور روایتی ٹیکسٹائل شعبے سے آگے بڑھ کر برآمدات کو متنوع بنانے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ جی ایس پی پلس فریم ورک میں تبدیلیوں اور بین االقوامی تقاضوں میں اضافے کے پیش نظر 2029 تک کا عرصہ ایک اہم عبوری دور کی حیثیت رکھتا ہے۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستانی کاروباری برادری جی ایس پی پلس کے تحت یورپی منڈی میں ترجیحی رسائی سے مسلسل فائدہ اٹھاتی رہے اور عالمی سطح پر بھی مسابقتی حیثیت برقرار رکھ سکے، اس کے لیے حکومت کو مزید سہولت کاری، آگاہی اور مراعات فراہم کرنے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور صنعت کے درمیان خصوصی ٹاسک فورسز قائم کی جانی چاہئیں؛ تاکہ بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کو یورپی یونین کے بنیادی کنونشنز، بشمول مزدوروں کے حقوق، انسانی حقوق (SMEs) کاروباری اداروں طرز حکمرانی سے متعلق تقاضوں کو سمجھنے اور ان پر عمل درآمد میں مدد مل ِ ماحولیاتی معیارات اور اچھی سکے۔انہوں نے کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بیوروکریٹک رکاوٹیں دور کرنے اور ٹیکسٹائل سمیت معیشت کے دیگر اہم شعبوں کو یورپی منڈی میں وسیع اور پائیدار بنیادوں پر رسائی حاصل کرنے کے لیے ہدفی پالیسی مراعات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ دسمبر 2028 تک کا عبوری عرصہ ایک سنہری موقع ہے، اسے غفلت کا وقت نہیں سمجھنا چاہیے۔ حکومت کو اس عبوری مرحلے میں کاروباری برادری کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ساختی اصالحات، مسابقتی توانائی کی قیمتوں اور فعال کمپالئنس سپورٹ کے بغیر پاکستان کو یورپی منڈی تک وہ رسائی کھونے کا خطرہ الحق ہو سکتا ہے کہ جو ملک نے برسوں کی محنت سے حاصل کی ہے۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی حکوم ِت پاکستان اور یورپی یونین مشن کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے؛ تاکہ جی ایس پی پلس پروگرام کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جا سکے اور ملک کے لیے طویل مدتی اقتصادی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔

سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

TOP