یف پی سی سی آئی کا عالمی آئل شاک سے پاکستان کی تجارت اور معیشت کو محفوظ بنانے کے لیے فوری نوعیت کے اقدامات کا مطالبہ معطل کرنے کا (PDL) برآمدی صنعتوں کے لیے حفاظتی اقدامات اور صنعتوں کے لیے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی مطالبہ
کراچی ( 8 ستمبر 2026) ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں جاری اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان کے معاشی استحکام پر بڑھتے ہوئے دباؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر پے در پے تیل کے بحران، جس پر اضافی طور پر ملکی سطح پر عائد بھاری لیویز بھی شامل ہو جاتی ہیں، پاکستان کی برآمدی مسابقت کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، تجارتی خسارے میں اضافہ کر رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر صنعتی یونٹس کی بندش کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اور فرنس آئل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے سے ان ملک نقل و ِ درون (HSD) اکرام شیخ نے کہا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل حمل، سپالئی چین، بجلی کی پیداواری قیمت اور صنعتی پیداوار کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث پاکستان کی اہم برآمدی صنعتیں عالقائی حریف ممالک کے مقابلے میں تیزی سے اپنی مسابقتی حیثیت کھو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کو فوری طور پر برآمد کنندگان کے لیے ایک مخصوص اور جامع اسٹریٹجک حفاظتی نظام کی ضرورت ہے؛ تاکہ بڑے پیمانے پر صنعتوں کی ملک سے منتقلی اور صنعتی تنزلی کو روکا جا سکے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ براِہ راست صنعتی شعبے پر منتقل کرنا کسی صورت پائیدار نہیں ہوگا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ بلند ترسیلی اور نقل و حمل کے اخراجات کے اثرات برآمد کنندگان کے محدود منافع کو ختم کر رہے ہیں، جس پر وہ بین االقوامی منڈیوں میں اپنے آرڈرز حاصل کرنے کے لیے انحصار کرتے ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ بیرونی معاشی جھٹکوں سے ملکی معیشت اور صنعتی شعبے کو محفوظ بنانے کے لیے ایف پی سی سی آئی نے متعدد اقدامات پر مشتمل حکم ِت فوری طور (PDL) عملی تجویز کی ہے۔ ان میں سب سے اہم مطالبہ برآمدی صنعتوں کے لیے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی پر معطل کرنا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہدفی مالی سہولت صنعتوں کو ضروری مالی تحفظ فراہم کرے گی اور ملک کے قیمتی زرمبادلہ کمانے والے برآمدی شعبے کو محفوظ رکھنے میں مدد دے گی۔مزید برآں، صدر ایف پی سی سی آئی نے متبادل اور قاب ِل تجدید توانائی کے ذرائع کی جانب قومی سطح پر تیز رفتار منتقلی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایندھن سے متعلق اقدامات کافی نہیں بلکہ مجموعی توانائی کے نرخوں کو بھی معقول بنانا ناگزیر ہے۔ بجلی اور گیس کے نرخوں کو بنگلہ دیش، ویتنام اور بھارت جیسے عالقائی مسابقتی ممالک کے برابر النا انتہائی اہم ہے، کیونکہ ان ممالک نے بڑے معاشی جھٹکوں سے اپنے بنیادی صنعتی ڈھانچے کو محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر حکم ِت عملی اور حفاظتی اقدامات اختیار کیے ہیں۔ان اقدامات کے ساتھ ساتھ جاری لیکویڈیٹی بحران کو کم کرنے کے لیے عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک کی غیر معمولی طور پر بلند پالیسی ریٹ میں جارحانہ اور تیز رفتار کمی کا مطالبہ بھی کیا؛تاکہ صنعتی شعبے کو پیداواری سرگرمیوں کے لیے کم الگت ورکنگ کیپیٹل دستیاب ہو سکے۔ عاطف جو پاکستان کی برآمدی (SMEs) اکرام شیخ نے مزید کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے سپالئی چین کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں محدود مالی وسائل رکھتے ہیں اور موجودہ صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے باعث ایس ایم ایز کو فوری طور پر شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ اگر بروقت اور ہدفی اقدامات نہ کیے گئے تو فیکٹریوں کی بندش، پیداواری شفٹوں میں کمی اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری ناگزیر ہو سکتی ہے
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی



