ایف پی سی سی آئی کا حکومت سے کمرشل ایمپورٹرز کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی (15 جون 2026) صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کی کاروباری برادری حکومت سے ُپرزور مطالبہ کرتی ہے کہ صنعتی خام مال کے کمرشل ایمپورٹرز کے خالف امتیازی ٹیکس پالیسیوں کو فوری طور پر درست کیا جائے اور قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان سے بچایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صنعتی خام مال درآمد کرنے والے کمرشل ایمپورٹرز اور صنعتی مینوفیکچررز کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ اس وقت کمرشل ایمپورٹرز غیر متناسب ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں، جس سے ان کی مسابقتی صالحیت شدید متاثر ہو رہی ہے اور ان پر انحصار کے وجود کو خطرہ الحق ہو گیا ہے۔انہوں نے مزید (SMEs) کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کہا کہ کمرشل ایمپورٹرز پر 6 سے 9 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا جاتا ہے؛ جبکہ صنعتی مینوفیکچررز کو اپنی کے ساتھ کرنے کی اجازت دی جارہی ہے، تو اس (VAT) درآمدات کی تجارت صرف 3 فیصد اضافی ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے جائز کاروبار بند ہونے پر مجبور ہو جائیں گے۔ صنعت کا کام تجارت کرنا نہیں بلکہ پیداوار کرنا ہے۔ یہ غیر صنعتی الئسنسوں کے غلط استعمال اور قومی خزانے کو شدید (Flying Invoices) متوازن نظام جعلی انوائسز نقصان پہنچانے کا سبب بنے گا۔ ان کے مطابق صنعتی خام مال کے لیے تمام شعبوں میں یکساں ٹیکس پالیسی اپنانا اربوں روپے کی بچت کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے موجودہ اور مجوزہ ٹیکس نظام میں موجود کئی اہم خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔امتیازی ٹیکس نظام: تجارتی درآمد کا غیر ضروری بوجھ عائد کیا ج (WHT) کنندگان پر 6 سے 9 فیصد تک اضافی سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس VAT طرز عمل کو قانونی شکل دینا: فنانس بل کے تحت صنعتی درآمد کنندگان کو صرف 3 فیصد اضافی ِ رہا ہے۔غلط کے ساتھ اپنی درآمدات کی تجارت کی اجازت دی جا رہی ہے، جو کمرشل ایمپورٹرز کے لیے سخت نقصان دہ ہے اور ایک ایسے عمل کو فروغ دیتی ہے جو صنعتی سرگرمیوں کے دائرہ کار سے باہر ہے۔غیر دستاویزی معیشت کی حوصلہ افزائی: مسابقت میں کمی، جعلی ریفنڈز اور ایڈجسٹمنٹس کے باعث کمرشل ایمپورٹرز کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے غیر دستاویزی معیشت، جعلی انوائسز اور صنعتی الئسنسوں کے غلط استعمال کو فروغ مل رہا ہے۔ایس ایم ایز پر منفی اثرات: کاٹیج انڈسٹری اور ایس ایم ایز، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، خام مال کے حصول کے لیے مکمل طور پر کمرشل ایمپورٹرز پر انحصار کرتی ہیں۔ انہیں بھی وہی مسابقتی نرخ میسر ہونے چاہئیں جو بڑی صنعتوں کو حاصل ہیں۔سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ یہ امتیازی پالیسی مارکیٹ میں شدید عدم مسابقت پیدا کر رہی ہے۔ اگر کمرشل ایمپورٹرز کو کاروبار سے باہر کر دیا گیا تو ایس ایم ایز کو مناسب اور مسابقتی قیمتوں پر خام مال دستیاب نہیں ہوگا، جس سے روزگار کے بے شمار مواقع اور مقامی صنعتی پیداوار متاثر ہوگی۔ انہوں نے حکومت سے فوری طور پر مساوی مواقع فراہم کرنے کی اپیل کی۔ایف پی سی سی آئی اور ملک کی کاروباری برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فنانس بل میں ترمیم کرتے ہوئے صنعتی خام مال کو تمام شعبوں کے لیے یکساں بنیادوں پر تسلیم کیا جائے۔ ان کے مطابق یکساں ٹیکس پالیسی ہی قاب ذکر ہے کہ مذکورہ باال ِل پاکستان میں مسابقتی، دستاویزی اور ترقی یافتہ معیشت کی ضمانت بن سکتی ہے۔یہ امر زیر اہتمام منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس میں بھی اٹھایا گیا تھا، جس میں پاکستان یارن ِ مسئلہ کراچی میں فیڈریشن کے پاکستان (PALIMA) (پاکستان آرٹیفیشل لیدر امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن ، (PYMA) مرچنٹس ایسوسی ایشن اور (PISMA) اکستان آئرن اینڈ اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن (PCDMA) کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن کی اعل ٰی قیادت نے بھی شرکت کی (PPMA) پاکستان پالسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

