ایف پی سی سی آئی کی سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں سے خریداری محدود کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی (23 جون 2026) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹرسی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاب تجدید توانائی، جس کے کنوینر فواد جاوید ہیں، نے ہوا سے ِل بتایا ہے کہ فیڈریشن کی سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں سے خریداری میں کمی اور نتیجتا ان کی پیداوار میں مسلسل گراوٹ پر گہری تشویش ً کا اظہار کیا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ قومی بجلی کے ترسیلی نظام کی یہ ناکامی اربوں روپے کے مالی نقصانات کا باعث بن رہی ہے اور ماحول دوست گرین انرجی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔ مہنگائی سے متاثر عوام کو مہنگے درآمدی ایندھن کا بوجھ برداشت کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ گھارو اور جھمپیر کے عالقوں میں بجلی کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا؛ لیکن نیشنل گرڈ بار بار بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر (ISMO) اور اینڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (NGC (کمپنی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔اس کے نتیجے میں قومی گرڈ پاکستان کے سب سے سستے اور ماحول دوست بجلی کے ذریعے کو محدود کر رہا ہے؛ جو کہ صرف 14 روپے فی یونٹ کے حساب سے دستیاب ہے۔ جبکہ ملک ایک طرف لوڈشیڈنگ کا شکار ہے اور دوسری طرف مہنگی درآمدی گیس اور کوئلے پر قیمتی زرمبادلہ خرچ کر رہا ہے۔صدر قاب تجدید ِل ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کے مطابق ایف پی سی سی آئی کی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے بجلی کے نرخوں میں ایک حیران کن تضاد کی نشاندہی کی ہے۔ جس کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور کے مطابق مقررہ بینچ مارک سے زیادہ ہوا سے حاصل شدہ بجلی کی قیمت ایک (NEPRA) ریگولیٹری اتھارٹی روپے فی یونٹ سے بھی کم رہ جاتی ہے؛ لیکن اس کے باوجود بجلی کا نظام چالنے والے ادارے اس تقریباً مفت مقامی بجلی کو قبول کرنے کے بجائے اربوں ڈالر مالیت کے درآمدی تھرمل ایندھن کو ترجیح دے رہے ہیں۔مزید میکانزیم کے ازالے کے موجودہ نظام کے تحت، بجلی پیدا نہ ہونے سے ہونے (NPMV) برآں،نان پراجیکٹ مسڈوالیم والے نقصانات کا صرف 38 فیصد معاوضہ دیا جاتا ہے؛ حاالنکہ ہوا سے چلنے والے وہ بجلی گھر 100 فیصد فعال اور بجلی پیدا کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے مکمل مالی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ایف پی سی سی آئی نے خبردار کیا ہے کہ ایک ایسے ترسیلی نظام پر جو پہلے ہی گنجائش کی اور ترسیلی نیالمیاں اس (CTBCM) کمی اور متعدد مسائل کا شکار ہے اور مسابقتی دوطرفہ معاہداتی بجلی منڈی صورتحال میں قومی گرڈ کے استحکام کو مزید خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ایف پی سی سی آئی نے وزیراعظم آفس، سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا (NEPRA) وزارت توانائی اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ہے کہ ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کو الزمی طور پر چالنے کا درجہ دیا جائے۔ذمہ دار اداروں اور افراد کا مؤثر احتساب کیا جائے؛ ہوا سے دستیاب بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کو یقینی بنایا جائے؛نقصانات کے ازالے کے موجودہ نظام میں اصالحات کی جائیں؛ تاکہ سرمایہ کاروں اور توانائی کے شعبے کو درپیش مسائل کا مؤثر حل ممکن ہو سکے۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

