کاروبار اور صنعت کو آپریشنل سرمایہ حاصل کرنے میں شدید مشکالت کا سامنا ہے عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی (14 ستمبر 2026ء) صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کلیدی پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جمود کا شکار معاشی حاالت میں تجارت اور صنعت کو کچھ ریلیف اور سانس لینے کی گنجائش درکار تھی۔ملک کے سب سے بڑے نمائندہ تجارتی ادارے نے اس فیصلے کو معاشی سکڑاؤ پر مبنی اور معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھنے سے معاشی ِ سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی اور ملک بھر میں صنعتی بحالی کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مانیٹری پالیسی ہی حکام کے پاس کاروباری شعبے کو سہولت فراہم کرنے کا ایک مؤثر اور طاقتور ذریعہ تھی، تاہم اسے استعمال نہیں کیا گیا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ کاروباری برادری نے پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ پر النے کا مطالبہ کیا تھا؛تاکہ کاروبار کرنے کی غیر معمولی بلند الگت میں کمی الئی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کا حد سے زیادہ محتاط رویہ موجودہ معاشی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوالئی تا اگست 2026 کے دوران تجارتی خسارہ ساالنہ بنیادوں پر 18.1 فیصد بڑھ چکا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے واضح کیا کہ صنعت اس وقت توانائی کے بلند نرخوں، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، جیو اکنامک غیر یقینی صورتحال اور بلند فنانسنگ الگت کے باعث وجودی بحران کا شکار ہے؛ جس کے نتیجے میں ملک بھر میں صنعتی ترقی تقریباً جمود کا شکار ہو رہی ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ مینوفیکچرنگ کے مختلف شعبہ جات کمزور نمو کا سامنا کر رہے ہیں؛کیونکہ کاروباری ادارے اپنی روزمرہ سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے درکار سرمایہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی وسائل تک رسائی میں شدید مشکالت نے اس جمود کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔صدر ایف پی سی سی ناقاب برداشت حد تک بلند رہنے کے باعث نجی ِل آئی عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ قرض لینے کی الگت بدستور شعبے کے لیے قرضوں کا حصول مزید کم ہوتا جائے گا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں چھوٹے اور درمیانے درجے اور بڑے صنعتی ادارے بھی رسمی کریڈٹ مارکیٹ سے باہر ہوتے جائیں گے اور (SMEs (کے کاروباری ادارے انہیں اپنی آپریشنل ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید مالی مشکالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عاطف اکرام شیخ نے خبردار کیا کہ سرمائے کی مسلسل بلند الگت برآمدات میں کمی کی بنیادی وجہ بن رہی ہے؛ کیونکہ پاکستانی مینوفیکچررز عالمی منڈی میں اپنی پیداواری الگت کو مسابقتی سطح پر رکھنے سے مکمل طور پر قاصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان اپنے خطے کے ان حریف ممالک کے ہاتھوں عالمی مارکیٹ میں حاصل کیا ہوا ِ حصہ مسلسل کھو رہے ہیں کہ جن ملکوں میں انہیں سنگل ڈیجٹ آسانی سے فنانسنگ دستیاب ہے۔ شرح سود پر نسبتاً پاکستان میں ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی غیر معمولی بلند الگت مقامی مصنوعات کو عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں برآمدی آرڈرز میں کمی اور زرمبادلہ کی آمدنی میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ موجودہ مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے ساتھ برآمدات میں اضافے اور معاشی بحالی کے قومی اہداف کا حصول مشکل رہے گا۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنی ِظر ثانی کرے اور ایسے ہنگامی اقدامات کرے جو حقیقی معنوں میں کاروباری تسلسل اور سخت پالیسی پر فوری ن صنعتی سرگرمیوں کو سہارا فراہم کر سکیں۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی


