عاطف اکرام شیخ کا اسالمی اقتصادی انضمام اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ پر زور
کراچی:فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI )کے صدر عاطف اکرام شیخ نے دو طرفہ اور کثیر الجہتی تعاون کے ذریعے اسالمی اقتصادی انضمام کو فروغ دینے اور ِ عالم اسالم کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مضبوط تجارتی، سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داریوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 7 اکتوبر 2026 کو فیڈریشن ہاؤس کراچی میں سفارت کاروں کے ہمراہ منعقد ہونے والی آئندہ “ایف پی سی سی آئی اسالمک اکانومی سمٹ” اس مقصد کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ 57 رکنی اسالمی تعاون تنظیم (OIC )چار براعظموں پر پھیلی ایک وسیع اقتصادی منڈی ہے، جس کی مجموعی جی ڈی پی 2025 میں تقریباً 10.77 ٹریلین امریکی ڈالر رہی۔ او آئی سی ممالک کی برآمدات تقریباً 1.7 ٹریلین ڈالر اور درآمدات 1.6 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو اس مارکیٹ کے وسیع حجم اور اقتصادی انضمام کے بے پناہ مواقع کو ظاہر کرتی ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ رکن ممالک کے مابین باہمی تجارت (Trade OIC-Intra )ایک ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو ان کی مجموعی غیر ملکی تجارت کا 20.36 فیصد ہے۔ تاہم، یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تجارتی سہولت کاری، روابط، مالیاتی رابطوں اور نجی شعبے کے باہمی تعاون کے ذریعے او آئی سی ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کی اب بھی وسیع گنجائش موجود ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کے پاس او آئی سی ممالک کی منڈیوں کے ساتھ اقتصادی روابط کو گہرا کرنے کی بھرپور صالحیت موجود ہے، بالخصوص ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات، زراعت اور فوڈ پروسیسنگ، ادویات سازی، انجینئرنگ گڈز، معدنیات و کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، حالل مصنوعات، سیاحت، الجسٹکس اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں۔ انہوں نے زور دیا کہ توجہ صرف روایتی تجارت تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس میں مشترکہ منصوبے (Ventures Joint)، ٹیکنالوجی پارٹنرشپ، سرمایہ کاری اور عالقائی ویلیو چینز کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک محل وقوع، بڑی صارفی منڈی، نوجوان آبادی، صنعتی بنیاد اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC )کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع او آئی سی ممالک سے سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اسالمی دنیا کے چیمبرز اور کاروباری تنظیموں کے درمیان بزنس ٹو بزنس (B2B) روابط، مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں اور ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ اسالمک اکانومی سمٹ میں سفارتی مشنز، تجارتی نمائندوں، حکومتی اداروں، مالیاتی تنظیموں، چیمبرز آف کامرس اور معروف کاروباری رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر الیا جائے گا تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے عملی مواقع کی نشاندہی کی جا سکے۔
عاطف اکرام شیخ نے واضح کیا کہ ایف پی سی سی آئی اس سمٹ کو او آئی سی ممالک کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اور قاب ِل عمل تجاویز تیار کرنے اور متعلقہ وزارتوں، اداروں، سفارتی مشنز اور نجی شعبے کے “عالم اسالم بے پناہ اقتصادی ِ شراکت داروں کے ساتھ ان پر عمل درآمد کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا، وسائل اور منڈیوں کا حامل ہے۔ ہمارا مقصد اس صالحیت کو تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور پائیدار کاروباری شراکت داریوں میں بدلنا ہونا چاہیے۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی



