وفاق ایوانہائے تجارت وصنعت۔ پاکستان کے تناظر میں (India–EU FTA ) یورپی یونین–بھارت آزاد تجارتی معاہدے اکستان کی برآمدی مسابقت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے عاطف اکرام شیخ،صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی (22 جوالئی 2026ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی نے پاکستان–یورپی یونین بزنس فورم کا ایک اہم اجالس منعقد کیا ہے؛ جس میں کے پاکستان کی برآمدات (EU-India FTA) حال ہی میں طے پانے والے یورپی یونین–بھارت آزاد تجارتی معاہدے اور یورپی منڈی میں مستقبل کے تجارتی امکانات پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کی اہم ترین برآمدی منڈیوں میں شامل ہے؛ جہاں دوطرفہ تجارت کا حجم ساالنہ 12.6 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی تجارتی ماحول میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر پاکستان کو بروقت پالیسی اصالحات، برآمد کنندگان کے لیے سہولیات، کاروباری کی تجدید کے لیے مؤثر تیاریوں کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کی (GSP+) ماحول میں بہتری اور جی ایس پی پلس نئی ریگولیٹری ضروریات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔اجالس کی صدارت ایف پی سی سی آئی کے پاکستان–یورپی یونین بزنس فورم کے سربرا ہ زبیر باویجہ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ اس فورم کا قیام پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے، مغربی و مشرقی یورپی ممالک کے ساتھ کاروباری روابط مضبوط بنانے اور یورپی اداروں، یورپ میں پاکستان کے سفارتی مشنز اور پاکستان میں یورپی یونین کے مشنز کے ساتھ مؤثر رابطے کا پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے عمل میں الیا گیا ہے۔برسلز سے آن الئن خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین میں پاکستان کے مشن کے اکنامک منسٹر، عمر حمید نے یورپی یونین–بھارت ایف ٹی اے کے پاکستان کی برآمدات پر ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا اگرچہ پاکستان 2027 کے اختتام تک جی ایس پی پلس کی سہولت سے مستفید ہوتا رہے گا؛ تاہم اس مدت کو صنعتی مسابقت میں اضافے، مصنوعات کے معیار کی بہتری، برآمدات میں تنوع، یورپی یونین کے ابھرتے ہوئے ماحولیاتی اور پائیداری سے متعلق ضوابط کی تعمیل اور یورپی منڈی میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنا ناگزیر ہے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ کے چیف آف ریسرچ، ڈاکٹر جنید احمد نے معاہدے پر ایک جامع تجزیہ پیش کرتے (PIDE) آف ڈویلپمنٹ اکنامکس ہوئے کہا کہ اگرچہ اس ایف ٹی اے کے نتیجے میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو حاصل ٹیرف برتری بتدریج کم ہو سکتی ہے، لیکن اصل چیلنج ملک کی ساختی مسابقت کو بہتر بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے توانائی کی کم الگت، بہتر الجسٹکس، مالی وسائل تک آسان رسائی، برآمدات میں تنوع، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو روایتی ٹیکسٹائل برآمدات پر انحصار کم کرتے ہوئے اعل ٰی قدر کی حامل مینوفیکچرنگ اور علم پر مبنی صنعتوں کی جانب پیش رفت کرنا ہوگی۔زبیر باویجہ نے بتایا کہ اجالس کے شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ ایف پی سی سی آئی کا پاکستان–یورپی یونین بزنس فورم پاکستان کے یورپ میں تعینات کمرشل قونصلرز، پاکستان میں یورپی یونین کے وفد، تجارتی اداروں اور کاروباری برادری کے ساتھ مستقل رابطہ برقرار رکھتے ہوئے نئی تجارتی مواقع کی نشاندہی کرے، منڈی کو درپیش چیلنجز کا حل تالش کرے اور یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات بڑھانے کے لیے قاب ِل عمل پالیسی سفارشات مرتب کرے۔اجالس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور پاکستان کی یورپی منڈی میں تجارتی و اقتصادی مفادات کے تحفظ اور فروغ کے لیے جامع سفارشات مرتب کر کے حکوم ِت پاکستان کو پیش کی جائیں گی
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی
