FORGOT YOUR DETAILS?

ایف پی سی سی آئی کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں جزوی ریلیف کا خیرمقدم برآمدی صنعتوں کے لیے فوری سیفٹی نیٹ کا مطالبہ عاطف اکرام شیخ، صدرایف پی سی سی آئی

کراچی(4 اپریل 2026ء): صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وزیراعظم کے اس فیصلے کا خیرمقدم کو آدھا کر کے پیٹرول کی قیمتوں میں جزوی ریلیف فراہم (PDL)کیا ہے کہ جس کے تحت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کیا گیا ہے۔تاہم، صدر ایف پی سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی برآمدی صنعتوں کے لیے فوری طور کی بلند (HSD)پر ایک حفاظتی پیکج(سیفٹی نیٹ) نافذ کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل قیمتیں اور بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات پاکستان کی عالمی مسابقت کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ گذشتہ رات کی کمی کے باوجود پیٹرول کی قیمت عوام اور کاروباری طبقے کے لیے صرف کچھ حد تک ہی ریلیف کا باعث بنی ہے اور یہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا پیٹرول کی قیمت کو 378 روپے فی لیٹر تک کم کرنا ایک مثبت قدم ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت صنعتکاروں کی آواز سن رہی ہے۔عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520 روپے فی لیٹر تک برقرار رہنا برآمدی صنعتوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے؛ جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا تقریبا ناممکن ہو جائے گا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے خبردار کیا کہ برآمدکنندگان کے لیے فوری ً حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو صنعتوں کی بندش کا خطرہ بڑھ جائے گا۔سنیئر نائب صدرایف پی سی سی آئی ثاقب جو برآمدی سپالئی ،(SMEs)فیاض مگوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار چین کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، بڑے اداروں کی طرح مالی وسائل نہیں رکھتے اور اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت، بنگلہ دیش، چین اور ویتنام جیسے ممالک نے توانائی بحران کو بہتر انداز میں سنبھاال ہے اور وہاں ایندھن کی قیمتوں میں اتنا اضافہ نہیں ہوا؛ جس کی وجہ سے پاکستانی برآمدکنندگان کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔سنیئر نائب صدرثاقب فیاض مگوں نے زور دیا کہ حکومت کو فوری طور پر ایک جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی، جس میں برآمدی صنعتوں کے لیے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کا مکمل خاتمہ اور متبادل توانائی کے ذرائع کی جانب تیزی سے منتقلی شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس نازک وقت میں زرمبادلہ کی آمدن کو نقصان پہنچانے کی گنجائش نہیں ہے۔ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے وزارت خزانہ، وزارت تجارت اور وزارت پیٹرولیم کے ساتھ فوری مشاورتی اجالس بالنے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ برآمدی شعبے کا تحفظ صرف صنعتی ضرورت نہیں؛ بلکہ قومی معاشی سالمتی کا معاملہ ہے۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔

سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

TOP