ایف پی سی سی آئی میں اعل ٰی سطحی ایرانی تجارتی وفد کی آمد پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف قابل حصول ہے عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی( 12 مئی 2026ء ) یف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم میں تیزی سے اضافے کے حوالے سے عملی توقعات کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ آج ایف پی سی سی آئی نے فیڈریشن ہاؤس میں ایک اعل ٰی سطحی ایرانی کاروباری و سرکاری وفد کی میزبانی کی؛ جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینا تھا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ تفصیلی بزنس ٹو بزنس مالقاتوں اور پالیسی مذاکرات کے بعد ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کو آئندہ چند برسوں میں 10 ارب ڈالر تک بڑھانا ممکن ہے؛ بشرطیکہ، تجارتی رکاوٹوں اور تکنیکی مسائل کو حل کر لیا جائے۔ایرانی وفد میں سیستان و بلوچستان صوبے کے اقتصادی امور کے نائب گورنر؛کراچی میں ایران کے قونصل جنرل اکبر عیس ٰی زادہ؛ چاہ بہار فری زون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد سعید اربابی اور دیگر نمایاں کاروباری شخصیات شامل تھیں۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ مذاکرات میں الجسٹکس، ٹرانسپورٹ، بحری روابط، چاول اور گوشت کی برآمدات جیسے اہم شعبوں میں فوری تجارتی مواقع پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ثاقب فیاض مگوں نے مزید کہا کہ 10 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کے لیے بارٹر ٹریڈ اور عالقائی تجارتی نظام کو باضابطہ اور مؤثر انداز میں فعال بنانا ضروری ہے۔ایف پی سی سی آئی سندھ کے ریجنل چیئرمین اور نائب صدر عبدالمہیمن خان نے کہا کہ مضبوط کاروباری روابط اور محفوظ متبادل ادائیگی نظام کے قیام سے موجودہ رکاوٹیں دور کی جا سکتی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری الگت میں نمایاں کمی الئی جا سکتی ہے۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ناصر خان نے تجارت کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گوادر اور چاہ بہار بندرگاہوں کو حریف کے بجائے ایک دوسرے کے معاون اثاثے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق الجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور بحری حکمت عملیوں کے انضمام سے اس خطے کو عالمی تجارتی راہداری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔نائب صدر ایف پی سی سی آئی آصف سخی نے زرعی اور غذائی شعبوں کی فوری برآمدی صالحیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کی بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صالحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اعل ٰی معیار کا چاول اور حالل گوشت ایرانی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں؛تاہم اس کے لیے کسٹمز طریقہ کار کو آسان، بارڈر مینجمنٹ کو جدید اور کولڈ چین الجسٹکس کو بال تعطل بنانا ہوگا۔دورے کے اختتام پر دونوں اطراف کے وفود کے درمیان کاروباری روابط کے فروغ کے لیے مستقل فالو اپ قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ایف پی سی سی آئی نے اقتصادی سفارتکاری اور نجی شعبے کی مؤثر نمائندگی کے ذریعے 10 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی
