ایف پی سی سی آئی کے صدر نے CACCI ویبینار میں پاکستان کے معاشی امکانات کو اجاگر کیا ایشیا پیسیفک کے کاروباری رہنماؤں کو سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری )ایف پی سی سی آئی( کے صدر، ای سی او چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ای سی او سی سی آئی) کے صدر، سارک چیمبر کے سینئر نائب صدر اور کنفیڈریشن آف ایشیا پیسیفک چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (CACCI) کے نائب صدر عاطف اکرام شیخ نے CACCI کے پلیٹ فارم سے منعقدہ ایک اعل ٰی سطح کے ورچوئل سیشن میں ”پاکستان میں کاروبار: موجودہ رجحانات اور تازہ ترین پیش رفت“ کے موضوع پر جامع پریزنٹیشن دی۔ ویبینار میں ایشیا پیسیفک خطے سے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد سینئر نمائندوں، کاروباری رہنماؤں اور چیمبر ممبران نے شرکت کی۔ اپنی کلیدی پریزنٹیشن میں عاطف اکرام شیخ نے پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک انڈیکیٹرز، اسٹریٹجک جغرافیائی مقام، نوجوان اور ہنر مند ورک فورس، تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل اکانومی اور کلیدی شعبوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی۔ ان شعبوں میں زراعت و فوڈ پروسیسنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، الجسٹکس، قابل تجدید توانائی، ٹورازم، ہاؤسنگ اینڈ کنسٹرکشن، ٹیکسٹائل اور آٹوموبائل مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔ اکستان کے معاشی آؤٹ ک ل پیش کرتے ہوئے انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کے آثار دکھا رہی ہے۔ ُ شرح نمو میں بہتری، کنٹرولڈ مہنگائی، غیر ملکی زر مبادلہ کی بڑھتی ہوئی استحکام اور سرمایہ کاروں کے نئے سرے سے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ٹریڈ ایگریمنٹس، ایکسپورٹ پوٹینشل، خصوصی اقتصادی زونز، سرمایہ کار دوست قانونی فریم ورک اور کاروباری ماحول کو مضبوط بنانے میں حکومت کی اصالحات کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انٹرایکٹو سوال و جواب کے سیشن کے دوران CACCI کے مختلف ممالک کے ارکان نے پاکستان کی معاشی بنیادوں، صنعتی مقابلہ جاتی صالحیت، عالقائی امیج اور سرمایہ کاری کے ماحول سے متعلق اہم سواالت اٹھائے۔ جناب عاطف اکرام شیخ نے پاکستان کے بنیادی معاشی چیلنجز، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) ے بطور سنگل ونڈو پلیٹ فارم کے کردار، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کے رجحانات، پاکستان کی صنعتی اور تجارتی پالیسیوں، ترجیحی اور فری ٹریڈ ایگریمنٹس یکسٹائل سیکٹر کے چیلنجز، یوٹیلیٹی اور فیول الگت، ایکسپورٹ کی مقابلہ جاتی صالحیت اور s’Moody سمیت بین االقوامی ایجنسیوں کی کریڈٹ ریٹنگز پر جامع جوابات دیے۔ انہوں نے عالقائی جغرافیائی سیاسی صورتحال، بشمول امریکہ-ایران تنازع کے اثرات، عالقائی امن و استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے تعمیری کردار اور جنوبی ایشیا سمیت دیگر خطوں میں ایک ذمہ دار معاشی اور سفارتی سٹیک ہولڈر کے طور پر پاکستان کے ابھرتے ہوئے کردار کے بارے میں بھی سواالت کا جواب دیا۔ عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ پاکستان اپنی اسٹریٹجک کنیکٹیویٹی کی وجہ سے وسطی ایشیا، مشرق وسط ٰی، چین، جنوبی ایشیا اور یورپ سے جڑا ہوا ہے، جو اسے تجارت، الجسٹکس اور سرمایہ کاری کا قدرتی مرکز بناتا ہے۔ اس لیے بین االقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بہت بڑے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایف پی سی سی آئی پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی ادارہ ہے جو کاروبار، صنعت اور سروسز سیکٹرز کی نمائندگی کرتا ہے اور CACCI کے رکن ممالک کے ساتھ معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایف پی سی سی آئی کی پوری وابستگی کا اعادہ کیا۔ شرکاء نے معلوماتی پریزنٹیشن کی تعریف کی اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشی پوٹینشل اور عالقائی تجارت و سرمایہ کاری میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کیا۔ عاطف اکرام شیخ نے CACCI کے صدر پیٹر میک ملن، ڈائریکٹر جنرل CACCI ڈارسن چیو اور تمام رکن چیمبروں کا ویبینار کو کامیاب بنانے میں فعال شرکت اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

