ایف پی سی سی آئی مالی سال 2026 کے پہلے 10 ماہ جوالئی تا اپریل کے دوران ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کے پیش نظر فوری برآمدی مراعات کا مطالبہ کرتی ہے 32 عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی(5 مئی 2026ء): صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خسارہ مالی سال 2026کے پہلے 10ماہ میں 20.28 فیصد اضافے کے ساتھ 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے؛ جوکہ ملکی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن گیا ہے۔انہوں نے معاشی پالیسی سازوں سے فوری اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملکی ایکسٹرنل اکاؤنٹ کو مستحکم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے برآمدات کے شعبے کو فوری اور مؤثر مراعات دینا ناگزیر ہے۔ادارہ شماریات پاکستان کے منگل کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی 10 ماہ میں درآمدات تقریبا 7 فیصد اضافے کے ساتھ 57.19 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں؛ جبکہ برآمدات 6.25 فیصد کمی کے بعد 25.21 ً ارب ڈالر رہ گئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 26.89 ارب ڈالر تھیں۔ صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اس بڑے فرق کے باعث پاکستان کی درآمدات اس کی برآمدات کے مقابلے میں دگنی سے زیادہ ہو چکی ہیں؛جس سے تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے 26.59 ارب ڈالر سے بڑھ کر 32 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید بتایا کہ اپریل 2026 کے دوران 4.07 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا ہے؛ جوکہ گزشتہ 46 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اگرچہ اپریل میں برآمدات 14.03 فیصد اضافے کے ساتھ 2.48 ارب ڈالر تک پہنچیں؛ مگر اپریل میں بڑھتی ہوئیں ماہانہ درآمدات میں اضافے نے اس بہتری کو زائل کر دیا۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ اپریل میں درآمدات ساالنہ بنیاد پر 7.46 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 28.41 فیصد اضافے کے ساتھ 6.55 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں؛ جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی جانب سے درآمدی پابندیاں مؤثر ثابت نہیں ہوئیں ہیں۔ثاقب فیاض مگوں نے مزید کہا کہ اگرچہ خدمات کے شعبے میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے؛جہاں جوالئی تا مارچ کے دوران خسارہ 6.7 فیصد کم ہو کر 2.15 ارب ڈالر ہو گیا ہے اور برآمدات 17 فیصد اضافے سے 7.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں ہے؛ تاہم ملکی معیشت کا اصل انحصار اشیاء کی برآمدات پر ہے۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اور ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان نے کہا کہ ادائیگیوں کے ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے فوری طور پر برآمدات پر مبنی معاشی پالیسی اپنانا ضروری ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ صنعتی الگت کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں؛ جن میں برآمدی صنعتوں کے لیے بجلی اور گیس کے نرخ عالقائی ممالک کے برابر النا، شرح سود میں کمی کرنا اور صنعتوں کو آسان قرضوں کی فراہمی شامل ہے۔ عبدالمہیمن خان نے مزید مطالبہ کیا کہ برآمد کنندگان کے تمام زیر التواء ریبیٹس فوری ادا کیے جائیں، آئی ٹی، انجینئرنگ اور فارماسیوٹیکل جیسے شعبوں کے لیے خصوصی ٹیکس مراعات دی جائیں کے لیے مؤثر سفارتی اقدامات کیے جائیں۔ (FTAs) اور عالمی منڈیوں تک زیرو ڈیوٹی رسائی یا آزاد تجارتی معاہدوں
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

