وفاق ایوانہائے تجارت وصنعت۔ پاکستان نے کراچی میں مشترکہ طور پر اسٹیک ہولڈرز انگیجمنٹ سیشن (SMEDA) ایف پی سی سی آئی اور سمیڈا ڈے 2026 منایا (MSME) کے ذریعے عالمی ایم ایس ایم ای عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی ( 0جون 2026ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ (SMEDA) کہا ہے کہ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ڈے 2026 (MSME (نے مشترکہ طور پر فیڈریشن ہاؤس، کراچی میں عالمی ایم ایس ایم ای (FPCCI) انڈسٹری کی مناسبت سے ایک اعل ٰی سطحی اسٹیک ہولڈرز انگیجمنٹ سیشن کا انعقاد کیا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام کاروباری شخصیات، مختلف (MSMEs) شیخ نے کہا کہ اس تقریب میں مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز چیمبرز اور تجارتی تنظیموں کے نمائندے، خواتین کاروباری رہنما ء، نوجوان کاروباری افراد، مالیاتی ادارے، تعلیمی شعبے کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد ملکی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جدت کو فروغ دینے میں ایم ایس ایم ایز کے اہم کردار کو اجاگر کرنا تھا۔ سینئر نائب صدر ایف پاکستان کی معیشت کی (MSMEs(پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز ریڑھ کی ہڈی ہیں اور روزگار کی فراہمی، جدت اور معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے مزید کہا کہ ایم ایس ایم ایز کو مضبوط بنانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کاروباری افراد کی معاونت اور کاروباری برادری کے ساتھ مؤثر کے ریجنل چیف زیشان احمد نے عالم (SMEDA) مکالمے کے فروغ کے لیے سمیڈا کی کاوشوں کو سراہا۔سمیڈا ایس ایم ای ڈے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے شرکاء کو سمیڈا کے مینڈیٹ، خدمات اور ایم ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے جاری مختلف اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ِ وزارت صنعت و پیداوار کے تحت سمیڈا کاروباری ترقیاتی خدمات، کاروباری رہنمائی، پالیسی سازی میں معاونت، مالی وسائل تک رسائی، کلسٹر ڈویلپمنٹ، برآمدات کے فروغ اور استعداد کار بڑھانے کے مختلف پروگراموں کے ذریعے ایم ایس ایم ایز کی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔سمیڈا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن مشہود علی خان نے مہما خصوصی کی حیثیت سے تقریب میں (SMEDA) شرکت کی اور پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں کاروباری سرگرمیوں اور انٹرپرینیورشپ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدت کو فروغ دینے اور جامع معاشی ترقی میں ایم ایس ایم ایز کے کردار کو سراہا۔شرکاء نے کاروباری افراد کی معاونت اور ایم ایس ایم ای ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سمیڈا کی کوششوں کو قاب ِل تحسین قرار دیا۔ انٹر ایکٹیو سیشن کے دوران ایم ایس ایم ایز کو درپیش اہم مسائل، جن میں توانائی کی بڑھتی ہوئی الگت، مالی وسائل تک رسائی، برآمدات کا فروغ اور ریگولیٹری چیلنجز شامل تھے، پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجالس نے شرکاء کو کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے اور مقامی صنعتوں و کاروباری اداروں کی مسابقتی صالحیت بڑھانے کے لیے اپنی تجاویز پیش کرنے کا بھی موقع فراہم کیا۔واضح رہے کہ عالمی ایم ایس ایم ای ڈے ہر سال اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت منایا جاتا ہے. تاکہ مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کے پائیدار ترقی، جدت، روزگار کے فروغ اور معاشی خوشحالی میں اہم کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا سکے۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں، صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع میں اضافے اور کاروبار دوست ماحول کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی
