FORGOT YOUR DETAILS?

ایف پی سی سی آئی کے صدر کا انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی ڈیڈ لائن میں ایک ماہ کی توسیع کا مطالبہ مسلم کی تنگی اور دیگر مشکلات در پیش بین IRIS عاطف اکرام شیخ صدر ایف پی سی سی آئی

کراچی (28) ستمبر (2026) صدرایف پی سی سی آنی عاطف اکرام شیخ نے وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ (FBR) ریونیو کی توسیع کی جائے اور علی شیڈ لائن 31 اکتوبر 2026 مقرر کی جائے؛ تاکہ تاجر برادری، صنعتکاروں، کاروباری اداروں اور دیگر ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کی جا سکے ملک کے سب سے بڑے تجارتی ادارے ایف پی سی سی آئی نے واضح کیا کہ یہ توسیع کسی رعایت کے طور پر نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ لیکس تعمیل، لیکس بیس کو وسیع اور انفرادی لیکس دیندگان (SMEs) کرنے اور کاروباری برادری، چھولی و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں پر موجود شدید دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک عملی ضرورت ہے صدر ایف پی سی سی آنی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ 30 ستمبر کی آخری تاریخ قریب آنے کے ساتھ بی لیکس دہندگان اور لیکس پریکٹیشنرز کو شدید نظامی رکاوٹوں کا پورکل ملک بھر سے پڑھنے والے لیجیئل ٹریفک کے باعث بار بار سست روی IRIS سامنا ہے۔ ایف بی آر کا تکنیکی خرابیوں اور ٹاؤن ٹائم کا شکار ہو رہا ہے۔ ان تکنیکی مسائل کے باعث ہزاروں ایسے ٹیکس دہندگان، جو اپنی ریٹرنز اور ویلتھ اسليتمتلس بروقت جمع کرانا چاہتے ہیں، انھیں درست اور مقررہ وقت پر فائلنگ مکمل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کاروباری برادری اپنی قومی ذمہ داری پوری کرنے اور قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے مکمل طور پر پر عزم ہے۔ تاہم نظام کی تکنیکی کمزوریوں اور ناکافی دیجیتال انفراسٹرکچر کی سزا الیکس دہندگان کو دینا کسی صورت مناسب نہیں۔ ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے توسیع کے مطالبے کی کئی اہم وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں عدم استحکام بنیادی سلام کا دفتری اوقات میں بار بار سست ہونا اور کریش ہونا اليكس وكلاء چارٹرڈ اکاونس اور IRIS مسئلہ ہے۔ کاروباری افراد کے لیے ریٹرنز کی تیاری اور بروقت فائلنگ کو انتہائی مشکل بنا رہا ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایک ماہ کی توسیع لیکس دہندگان کو ضروری میلت فراہم کرے گی۔ تاکہ وہ اپنے اکارتکس کو حتمی شکل دے سکیں، الیکس قوانین میں حالیہ پیچیدگیوں کو سمجھ سکیں اور مسلم کریش ہونے کے خدشے کے بغیر اپنی ریٹرنز جمع کرا سکیں صدر ایف پی سی سی آتی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ ٹیکس قوانین اور رپورٹنگ کے تقاضوں میں حالیہ پیچیده ترامیم نے لیکس دہندگان میں بڑے پیمانے پر ابہام پیدا کیا ہے۔ اس صورتحال میں انہیں اپنی ویلته ریکنسیلی ایشن مکمل کرنے اور غیر ارادی غلطیوں سے بچنے کے لیے اضافی وقت درکار ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تکنیکی مسائل کے ساتھ کی انتظامی SMES ساتھ مینگانی اور کاروباری اخراجات میں مسلسل اضافے سمیت موجودہ معاشی مشکلات نے صلاحیتوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ بہت سے کاروباری ادارے اپنے مالیاتی الکس مکمل کرنے اور ضروری دستاویزات جمع کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے پیری در ایف پی سی سی الی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ انکم ٹیکس ریتون جمع کرانے کی مدت میں توسیع حکومت کے اپنے بنیادی مقصد یعنی ایکلو لیکس فانلرز کی تعداد میں اضافے، کو براہ راست تقویت دے گی۔ جلد بازی میں فائلنگ کرانے سے ریٹرنز کی تعداد متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ انسانی وقت دینے سے زیادہ ٹیکس ریٹرنز بیتر لیکس کمپلائنس اور زیادہ درست معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، جو بالآخر قومی محصولات میں اضافے کا باعث بنیں گی۔ صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وزیر اعظم پاکستان وزیر خزان و محصولات اور چیئرمین ایف بی از سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر زمینی حقائق کا نوٹس لیں۔ ایف پی سی سی آئی نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع نہ کی گئی تو متعدد جائز اور حقیقی کاروباری ادارے نان فائلر کے زمرے میں جا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں غیر ضروری جرمانے اور کاروباری سرگرمیوں میں خال پیدا ہو سکتا ہے؛ جبکہ موجودہ نازک معاشی حالات ایسے اضافی نیاز کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ ایف پی سی سی آئی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایف بی آر کے ساتھ مل کر نظام میں موجود تکنیکی مسائل حل کرنے اور لیکس کے عمل کو مزید آسان اور مؤثر بنانے کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا تاکہ ریاست اور کاروباری شعبے دونوں کے مفادات کو بہتر انداز میں یقینی بنایا جا سکے۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔

سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

TOP