ایف پی سی سی آئی کے پاکستان-یورپی یونین بزنس فورم 2026 کی رکنیت کے لیے درخواستیں مدعو عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
فروری 2026(کراچی): صدرفیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ نے بینکاری شعبے 12 کی شرح میں 3 (ERF)کے اس رضاکارانہ فیصلے کا پرتپاک خیرمقدم کیا ہے کہ جس کے تحت ایکسپورٹ ری فنانس فیسلٹی فیصد کمی کر کے اسے 4.50 فیصد کی مسابقتی سطح پر الیا گیا ہے۔ انہوں نے فیڈریشن کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ برآمدات قاب عمل، پائیدار اور حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف ِل پر مبنی اقتصادی ترقی ہی ملک کے لیے واحد اکرام شیخ نے اس اقدام کو برآمدات سے وابستہ صنعتوں کے لیے بروقت ریلیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سرمایہ کی الگت کو معقول بنانے اور کاروبار کرنے کی الگت میں کمی سے متعلق ایف پی سی سی آئی کے دیرینہ مطالبے کو مؤثر انداز حد کے تابع ہے؛ تاہم، یہ ERF میں پورا کرتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ یہ سہولت اس وقت 1,052 ارب روپے کی موجودہ یا ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (SBP)حد بنیادی طور پر لچکدار ہے اور جون 2027 تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ضرورت کے مطابق بڑھائی جا سکتی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا (Bank EXIM) کہ 300 بیسس پوائنٹس کی یہ کمی محض مالیاتی ایڈجسٹمنٹ نہیں؛ بلکہ ہماری مینوفیکچرنگ اور برآمدی صنعت کے لیے مسابقت میں براِہ راست بہتری ہے۔ 4.50 فیصد کی نئی شرح کے ساتھ پاکستانی برآمد کنندگان اب بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے عالقائی حریفوں کا بہتر مقابلہ کر سکیں گے؛ جہاں طویل عرصے سے سنگل ڈیجٹ اور مسابقتی فنانسنگ کم الگت دستیاب رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ریلیف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب نجی شعبہ حکومتی ویژن کے تحت مضبوط معاشی بحالی اور برآمدی نمو کے لیے ُپرعزم ہے۔ ان کے مطابق شرح میں یہ کمی صنعتی قرضوں کی دستیابی کو بہتر کرے گی۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے گزشتہ مالی سال کے دوران ایس ایم ای سیکٹر میں قرضہ لینے والوں کی تعداد میں 57 فیصد شرح چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے اس رفتار کو برقرار رکھنے میں ERF اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 4.5 فیصد کی مددگار ثابت ہوگی؛ جو کہ فنانسنگ الگت میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کو توقع ہے کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے برآمد کنندگان کی مسلسل معاونت جاری رکھیں تو اس الگت میں کمی کے نتیجے میں ساالنہ بنیادوں پر برآمدات میں مثبت نمو حاصل ہو سکے گی۔ انہوں نے برآمد کنندگان کو مالی سہولتوں تک رسائی فراہم کرنے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بھی شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر،ایف پی سی سی آئی نے حکومت کے ساتھ مل شرح 2026 ERF کر قومی برآمدی ہدف کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ نئی کم شدہ اور اس کے بعد کے عرصے میں معاشی استحکام کی بنیاد ثابت ہوگی۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائر
ڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

