ایف پی سی سی آئی کا اسالمی ممالک کے درمیان اقتصادی انضمام کو مزید مضبوط بنانے پر زور نائب صدر قرۃ العین کا تجارت، سرمایہ کاری اور رابطوں کے فروغ کا مطالبہ کے چیف ایگزیکٹو فیض احمد چڈھر کی حکومتی تعاون کی یقین دہانی ٹی ڈی اے پی
کراچی (9 اکتوبر 2026ء): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی نائب صدر قرۃ العین نے اسالمی ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، سیاحت اور کاروباری روابط کو فروغ دے کر اقتصادی انضمام مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 57 مسلم ممالک کی مشترکہ اقتصادی صالحیت روزگار، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی کے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ایف پی سی سی آئی کے زیر اہتمام منعقدہ اسالمک اکانومی سمٹ ود ڈپلومیٹس سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کی نائب صدر قرۃ العین نے کہا کہ اسالمی ممالک کو روایتی دوطرفہ تجارت سے آگے بڑھ کر ایک مربوط اقتصادی شراکت داری قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے کاروباری اداروں کے درمیان براِہ راست روابط، مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری میں شراکت داری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور بہتر رابطہ کاری کو فروغ دینا ہوگا۔یہ سمٹ “کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے لیے دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کے ذریعے اسالمی اقتصادی انضمام کا فروغ” کے موضوع کے تحت منعقد ہوئی، جس میں قونصل جنرلز، کمرشل قونصلرز، اسالمی ممالک کے نمائندوں، کاروباری شخصیات، مالیاتی اداروں، تعلیمی ِن خصوصی اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ شعبے سے وابستہ افراد اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔تقریب کے مہما کے چیف ایگزیکٹو فیض احمد چڈھر نے کہا کہ حکومت مسلم ممالک کے درمیان TDAP (اتھارٹی آف پاکستان اقتصادی تعاون مضبوط بنانے کی کوششوں کی مکمل حمایت کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسالمی ممالک کے درمیان تجارت کو کلیدی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مسلم ممالک کے ساتھ اپنے کے رکن ممالک کے ساتھ تجارت اور کاروباری OIC اقتصادی روابط مزید مستحکم کرنے اور اسالمی تعاون تنظیم رابطوں کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسالمی معیشتوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے تعاون میں اضافے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حوالہ دیتے ہوئے فیض احمدچڈھر نے کہا کہ سال 2024 میں یہ تجارت تقریباً ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 2023 میں اس کا حجم 884 ارب ڈالر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 2024 میں او آئی سی ممالک کی مجموعی بیرونی تجارت میں باہمی تجارت کا حصہ تقریباً 36.20 فیصد رہا، جبکہ او آئی سی نے اس شرح کو 25 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ پاکستان میں حالل خوراک، گوشت، ادویات، کاسمیٹکس اور دیگر حالل سرٹیفائیڈ مصنوعات مسلم ممالک کو برآمد کرنے کی نمایاں صالحیت موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مستحکم ٹیکسٹائل اور گارمنٹس انڈسٹری مسابقتی قیمتوں، بہتر برانڈنگ، ویلیو ایڈیشن اور بین االقوامی و حالل معیارات کی پابندی کے ذریعے اسالمی ممالک کو اپنی برآمدات میں مزید اضافہ کرسکتی ہے۔انہوں نے چاول، پھلوں، سبزیوں، سمندری خوراک، گوشت، مویشیوں اور پراسیسڈ فوڈ، بالخصوص خلیجی منڈیوں میں، جبکہ ترقی پذیر مسلم ممالک میں ادویات اور صحت سے متعلق مصنوعات کی برآمدات کے مواقع کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان منڈیوں میں پاکستان کا حصہ بڑھانے کے لیے بین االقوامی سرٹیفکیشن، ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل اور برانڈنگ کو بہتر بنانا ضروری ہے۔اسالمک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ )آئی سی سی ڈی( کے سیکریٹری جنرل شیخ یوسف حسن خالوی نے اقتصادی رابطوں اور اقتصادی سیاحت کے فروغ کے لیے جدید اور مؤثر طریقے اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسالمی ممالک کی اقتصادی صالحیت کو عملی کاروباری مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر تعاون اور نجی شعبے کی شراکت داری کو مضبوط بنانا ہوگا۔آئی سی سی ڈی کے نائب صدر اور بینک البرکہ کے صدر احمد الوکیل نے اسالمی ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے میں اسالمی مالیاتی اداروں کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کاروباری سرگرمیوں اور سرحد پار سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے مؤثر مالیاتی نظام اور طریقہ کار وضع کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ بینک اسالمی کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ و سربراہ شریعہ کمپالئینس محمد عرفان احمد نے تجارت، سرمایہ کاری، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ایس ایم ایز ور معیشت کے پیداواری شعبوں کی معاونت میں شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی ذرائع کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔آئی بی اے کی پروفیسر ڈاکٹر ارم صبا نے اسالمی مالیات، مالیاتی شمولیت اور جدید اسالمی اقتصادی نظام کی ترقی کے لیے علم، تحقیق اور انسانی وسائل کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر اپنے خیاالت کا اظہار کیا۔او آئی سی میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر فواد شیر اور ِ وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا کہ اسالمی ممالک کے پاس ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے وسائل، منڈیاں، سرمایہ کاری کے مواقع اور افرادی قوت موجود ہیں، تاہم ان صالحیتوں کو باہم مربوط کرنے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی نظام درکار ہے۔انہوں نے تجارت میں سہولت کاری، سرمایہ کاری، اسالمی مالیات، زراعت و غذائی تحفظ، سیاحت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور کاروباری نقل و حرکت کے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا۔افغانستان، آذربائیجان، بنگلہ دیش، عمان، مالدیپ، ایران، انڈونیشیا، کوٹ ڈی آئیوائر، مالئیشیا، تھائی لینڈ، ماریشس، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، سری لنکا، ازبکستان اور اردن کے سفارتی مشنز کے نمائندوں نے بھی سمٹ میں شرکت کی۔سمٹ میں مشترکہ منصوبوں اور عالقائی ویلیو چینز کی ترقی پر بھی زور دیا گیا، بالخصوص حالل خوراک، زراعت و زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ، ٹیکسٹائل و گارمنٹس، ادویات، ٹیکنالوجی، توانائی، سیاحت، الجسٹکس اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کو اہم قرار دیا گیا۔ایف پی سی سی آئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ حکومتی اداروں، سفارتی مشنز، چیمبرز آف کامرس، مالیاتی اداروں، تعلیمی شعبے اور نجی شعبے کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتا رہے گا؛ تاکہ اسالمی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط مضبوط بنانے کے لیے عملی مواقع کی نشاندہی اور آئندہ اقدامات کے مؤثر طریقہ کار وضع کیے جاسکیں۔سمٹ کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ باہمی مکالمے کو ٹھوس تجارتی و سرمایہ کاری اقدامات، کاروباری روابط اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ زیادہ مضبوط اور مربوط اسالمی اقتصادی شراکت داری کی تشکیل میں نجی شعبے کی شرکت کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی



