ایف پی سی سی آئی صنعتی بجلی کے نرخوں کو بتدریج کمی کر کے 12 سینٹ فی یونٹ تک لانے کے اقدام کو سرابتی ہے تمام صنعتوں کے لیے بجلی کا نرخ 9 سینٹ فی یونٹ سے کم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے عاطف اکرام شیخ صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی (10) اکتوبر (2026) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس ابنا الاستری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے گذشتہ دو برسوں کے دوران صنعتی بجلی کے نرخ 16 سیات سے کم کرکے 12 سبت في يونت کرنے کے حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی کا موثر اور پانبدار راست یہی ہے کہ پاکستان میں بجلی کا نرخ تمام صنعتی صارفین کے لیے کم کر کے 9 سینت فی بوعث سے نیچے لایا جائے صدر ایف پی سی سی الی عاطف اکرام شیخ نے خبردار کیا کہ 12 سینت فی یونٹ کا موجودہ نرخ اور مخصوص شعبوں کے لیے مراعالی اسکیم محض عارضی اقدامات ہیں۔ انہوں نے کیا کہ برآمدات بڑھانے اور درآمدات کم کرنے کے لیے سمیت تمام صنعتی صارفین کے لیے پاکستان بنیادوں پر بجلی کے (B4) اور بی فور (B3) ضروری ہے کہ ہی تیری نوع کم کیے جائیں صدر ایف پی سی سی الی عاطف اکرام شیخ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر برانی توانانی سردار اویس احمد خان لغاری کا صنعتی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کی قیادت میں وفاقی وزیر کی جانب سے صنعتی بجلی کی طلب بڑھانے کے لئے دو اقدامات متعارف Incremental) کرانے کی کوششوں کو بھی سراید ان اقدامات میں اضافی بجلی کے استعمال کا پیکیج. شامل Two-Part Tou Tariff اور اختیاری دو حصوں پر مشتمل قائم آف بوز تيرف (Consumption Package ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے صنعتکاروں کے ساتھ تین مشاورتی نشستیں منعقد کرنے پر بھی وفاقی وزیر کا شکریہ اذا كيا عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ اضافی بجلی کے استعمال کے پیکیج کے تحت صارف کو اپنی سابقہ بجلی کی کھیت کی بنیاد پر مقررہ حد سے زیادہ بجلی استعمال کرنے پر رعایتی نرخ فراہم کیا جاتا ہے۔ موجودہ لوڈ کے مطابق بجلی کا بل پیشے کی طرح وصول کیا جاتا ہے، جبکہ مراعات صرف اضافی استعمال ہونے والے یونٹس پر لاگو ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دو حصوں پر مشتمل قائم آف بوز البرف کے تحت بجلی کے بل کو دو حصوں میں تقسیم کیا کے حساب سے مایان مقرره کپیستی چارجز جبکہ دوسرے حصے میں (KW) جاتا ہے۔ پہلے حصے میں پر کلووات استعمال ہونے والے بجلی کے ہوش کے مطابق ویری ایل چارجز شامل ہونے ہیں، جن کی شرح بجلی کے استعمال کے وقت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ اس نظام میں نان سولر، سوار اور پیک نورز کے لیے الگ الگ نرخ مقرر کیے جاتے ہیں ان کے مطابق اس ٹیرف کا مقصد صنعتوں کو دن کے اوقات میں زیادہ بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے، کیونکہ ان اوقات میں شمسی توانائی کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ اس طرح بجلی کی طلب اور پیداوار میں آثار کیا جاتا ہے، کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے صدر ایف پی (Duck Curve) چڑھار کے مسئلے، جسے تک کرو سی سی اني عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ صنعتوں نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاور ڈویژن کے سفنے دو حصوں پر مشتمل ٹائم آف یور ٹیرف پر اپنے تحفظات پیش کیے ہیں۔ صنعتوں کا مؤقف ہے کہ اس نظام کے تحت مقرره چارجز بہت زیادہ ہیں۔ مزید بران، جنگ کے باعث لاجسٹکس اور سیلانی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے پیش نظر موجوده حالات میں یہ تیرف صنعتی شعبے کے لیے قابل عمل نہیں ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اگر کسی ایک صنعت کو بجلی کے نرخوں میں رعایت دی جاتی ہے تو اس کا مالی بوجه دیگر صارفین پر منتقل ہونے کا خدش ہے، جس کے نتیجے میں ایک صنعت کو حاصل ہونے والا فائدہ دوسری صنعت یا صارف کے لیے اضافی بوجھ بن سکتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ صنعتیں پہلے ہی دن کے اوقات اور شمسی توانائی کی دستیابی کے مطابق اپنی بجلی کی کھیت کو بہتر بنا چکی ہیں؛ اس لیے رات کے وقت سے دن کے اوقات میں بجلی کی طلب منتقل کرنے کی گنمائش محدود ہے۔ مزید یہ کہ مجوزہ سولر اورز کے نرخوں پر بھی مختلف حسابات کے مطابق شمسی توانانی، قومی کرد. سے حاصل ہونے والی بجلی کے مقابلے میں مسلی رہتی ہے۔ ان کے بقول اس صورت حال میں مجوزہ ٹیرف نہ تو صنعتوں کو سولر اورز کے دوران قومی گرڈ سے بجلی استعمال کرنے کی طرف راغب کر سکے گا اور نہ ہی لک کرو کے مسئلے کو حل کرنے میں مؤثر ثابت ہوگا صدر ایف پی سی سی آنی عاطف اکرام شیخ نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بجلی کے نرخوں سے متعلق تجاویز تیار کرتے وقت سنعلی شعبے کی آراء اور اور تحفظات کو مناسب اہمیت دی جائے گی۔ عاطف اکرام شیخ نے 12 سینت فی یونٹ کے نرخ اضافی بجلی کے استعمال کے پیکیج اور دو حصوں پر مشتمل تیرف کو عارضی اقدامات قرار دیلے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا مستقل حل تمام صنعتي صارفين کیٹیگریز (B4) اور بی فور (B3) کے لیے بجلی کے نرخوں میں مزید کمی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بی تھری کے صنعتی صارفین اب بھی کراس سیسلی کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں حالانک، یہ صارفین زیادہ وولتیج پر بجلی حاصل کرتے ہیں اور انہیں بجلی فراہم کرنے کی لاگت نسبتا کم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ان صارفین کے لیے بھی دیگر صنعتی صارفین کی طرح بھلی کے نرخ کم کیے جا سکتے ہیں جس سے صنعتوں اور بجلی کے نظام دونوں کو فائدہ پہنچے گاستر ایف پی سی سی انی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ صنعتی بجلی کے نرخوں میں کمی پر بین الاقوامی مالباتي فلا آئی ایم ایف) کو بھی اصولی طور پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس اقدام سے صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہو گا آخر میں عاطف الكرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی مستقبل میں بجلی کے نرخوں سے متعلق پالیسی سازی میں نجی شعبے کے توانائی کے ماہرین کی مہارت اور تجربے کے ذریعے حکومت سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم سب کا مشترکہ مقصد پاکستان کی مجموعی صنعتی پیداوار میں اضافہ ہونا چاہیے نہ کہ پیداوار اور بجلی کے اخراجات کا بوجھ ایک صنعت سے دوسری صنعت پر منتقل کرنا
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی



