FORGOT YOUR DETAILS?

ایف یپ یس یس یئآ یسیلاپ ریٹ میں ےفاضا یک شدید مذمت یترک ےہ عاطف اکرام خیش، صدر ایف یپ یس یس ی

کراچی (26) اکتوبر 2026 فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کی جانب سے پالیسی ریٹ میں مزید 0.5 فیصد اضافے کے فیصلے پر گہری (SBP) اسٹیٹ بینک آف پاکستان تشویش مایوسی اور شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد بنیادی پالیسی ریٹ بڑھ کر 12 فیصد ہوگیا ہے، جو علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستانی معیشت کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی نے اس اقدام کو معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، مانیٹری پالیسی میں مزید سختی سے معاشی استحکام کی جاری کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا، صنعتی ترقی کی رفتار متاثر ہوگی اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدی مسابقت مزید کمزور ہوگی صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب مقامی صنعتکار اور کاروباری ادارے پہلے ہی غیر معمولی پیداواری اخراجات يوتيليتي تيرف میں اضافے اور شدید مالیاتی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، قرضوں کی لاگت میں مزید اضافہ ایک نامناسب فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں كاروباری شعبے کو سستے قرضوں اور معاشی مراعات کی اشد ضرورت ہے؛ تاکہ مقامی پیداوار میں اضافہ کاروباری سرگرمیوں کا تسلسل اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکیں۔ اس کے برعکس، سخت مانیٹری پالیسی نجی شعبے کی ترقی کو محدود اور سرمایہ کاری کے رجحان کو شدید متاثر کرتی ہے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ مسلسل بلند شرح سود نے قرض لینے کو کاروبار کے لیے سہولت کے بجائے ایک ناقابل برداشت مالی بوجھ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی بڑی وجوہات رسد کے نظام میں ساختی رکاوٹیں، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مالیاتی بے ضابطگیاں ہیں، نہ کہ محض مجموعی طلب میں اضافہ۔ ایسے حالات میں سخت مانیٹری پالیسی نے مقامی صنعتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ مہنگائی کے بنیادی اسباب غیر مالیاتی نوعیت کے ہونے کے باعث پیداواری لاگت میں اضافے سے جنم لینے والی مہنگائی بدستور برقرار ہے۔ نتیجتاً، شرح سود میں اضافہ قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے بجائے پیداواری صنعتوں پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے، جس سے باضابطہ کاروباری اداروں کو اپنی سرگرمیاں بند کرنے یا محدود کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے ایف پی سی سی آئی کے دیرینہ اور واضح مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے حکومت اور مرکزی بینک پر زور دیا کہ وہ اپنی مانیٹری پالیسی پر فوری نظرثانی کریں اور پالیسی ریٹ کو سنگل ٹیجت میں لے کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروباری اداروں ایس ایم ایز اور بڑی صنعتی پیداوار کے لیے قرضوں کو قابل برداشت بنانے کی خاطر شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانا ناگزیر ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ مناسب شرحسود کے بغیر مقامی کاروباری اداری جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنے مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن اور علاقائی حریفوں کا مؤثر مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے، کیونکہ کئی علاقائی ممالک میں قرض لینے کی لاگت پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے خبردار کیا کہ بلند شرح سود قومی خزانے اور نجی قرض داروں پر قرضوں کی ادائیگی کا ناقابل برداشت بوجھ ڈالتی ہے، جس سے مالیاتی مشکلات اور سست معاشی نمو کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جنم لیتا ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی مرکزی بینک، وفاقی حکومت اور معاشی پالیسی سازوں پر زور دیتی ہے کہ وہ ترقی پر مبنی مستقبل شناس اور کاروبار دوست مانیٹری پالیسی اختیار کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شرح سود کو علاقائی ممالک کے معیار کے مطابق لایا جائے اور قومی معیشت و صنعتی پیداوار پر براه راست اثر انداز ہونے والی پالیسیوں کے نفاذ سے قبل کاروباری برادری کے ساتھ جامع باضابطہ اور مؤثر مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔

سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

TOP