ایف پی سی سی آئی نے کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے اعل ٰی سطحی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ راؤنڈ ٹیبل سیشن کا انعقادکیا عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی (25 اگست 2026ء): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی نے آج اہم وفاقی و صوبائی حکومتی اداروں اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے پرائیوٹ سیکٹر کے نمائندوں کے ساتھ راؤنڈ ٹیبل سیشن کا انعقاد کیا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ اجالس کا بنیادی موضوع پاکستان کی معیشت کو کیش لیس معیشت کی جانب منتقلی پرڈسکشن (SBP) تھا۔ فیڈریشن ہاؤس کراچی میں منعقد ہونے والے اجالس میں کاروباری برادری، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اہم نمائندوں نے شرکت کی۔اجالس کا بنیادی مقصد (SRB) ور سندھ ریونیو بورڈ (FBR) فیڈرل بورڈ آف ریونیو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے مربوط مراعات وضع کرنا تھا؛ جن میں ممکنہ ٹیکس مراعات، کیش بیک اور رعایتیں شامل ہیں۔ شرکاء نے اس امر پر غور کیا کہ ان اقدامات کے ذریعے دستاویزی لین دین کو فروغ، ٹیکس تعمیل میں بہتری اور معیشت کو مزید دستاویزی و رسمی شعبے میں الیا جا سکتا ہے۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ کیش لیس معیشت کو اپنانا اب کوئی اختیاری معاملہ نہیں؛ بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایک ضرورت بن چکا ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ نقد لین دین سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب منتقلی شفافیت یقینی بنانے، کاروباری الگت کم کرنے اور پاکستانی مارکیٹوں کو عالمی معیشت سے مربوط کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اسٹیٹ بینک کے فنانشل انکلوژن سپورٹ ڈپارٹمنٹ (ایف آئی ایس ڈی) ے سربراہ غالم محمد پھل نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان محفوظ اور مضبوط ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لیے مکمل طور پر ُپرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ایسے اقدامات کی حمایت کرتا ہے جن کے ذریعے فن ٹیک کمپنیاں کم الگت پر ڈیجیٹل حل اور صارفین کے لیے مراعات فراہم کر سکیں؛ کیونکہ یہ سہولیات ڈیجیٹل ادائیگیوں کے وسیع پیمانے پر فروغ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ایف بی آر کے چیف کمشنر، آر ٹی او، ظفررفیق نے اجالس کے مقاصد سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے ڈیجیٹالئزیشن بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل لین دین کے لیے قاب ِل عمل ٹیکس مراعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے؛ تاکہ دستاویزی کاروباروں کی حوصلہ افزائی، ٹیکس تعمیل میں بہتری اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر وسعت دی جا سکے۔ایف بی آر کے چیف کمشنر، آئی آر حیدرآباد، سجاد اکبر نے کہا کہ حکومتی ادارے ایف پی سی سی آئی جیسے ملک کے اعل ٰی ترین کاروباری پلیٹ فارم سے موصول ہونے والی کاروباری برادری کی اجتماعی آراء اور تجاویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایف بی آر ان تجاویز کو اپنی پالیسی سازی میں شامل کرے گا۔سندھ ریونیو بورڈ کے سینئر ممبر عبدالحمید میمن نے بتایا کہ سندھ حکومت پہلے ہی ریستورانوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، جہاں ڈیجیٹل ادائیگی کی صورت میں سیلز ٹیکس کی شرح 8 فیصد جبکہ نقد ادائیگی پر 15 فیصد ہے۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ اجالس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اس بات پر مضبوط اتفا رائے پایا گیا کہ روایتی کاروباری طریقوں اور ڈیجیٹل حل کے درمیان موجود خالء کو ختم کرنے کے لیے نجی ِق شعبے اور ریگولیٹرز کو باہمی تعاون سے کام کرنا ہوگا۔ثاقب فیاض مگوں نے مزید کہا کہ کیش لیس معیشت کے فروغ کی بنیادی کلید اس سلسلے میں مراعات دیناہے۔ ایف پی سی سی آئی کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ دستاویزی معیشت، ڈیجیٹالئزیشن اور ٹیکس نظام کو نافذ کرتے وقت کاروباری برادری کو سہولت فراہم کی جائے؛تاکہ ٹیکس نیٹ وسیع ہو، نہ کہ اس کے برعکس موجودہ ٹیکس ادا کرنے والے اور قانون پسند کاروباری افراد پر مزید بوجھ ڈاال جائے۔ایف پی سی سی آئی کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے زور دیا کہ مربوط اور ٹھوس مراعات، خصوصا ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنانے والے تاجروں کے لیے مخصوص ٹیکس ریلیف، معیشت کی دستاویز بندی کے ً عمل کو تیز کر سکتے ہیں۔میاں زاہد حسین نے واضح کیا کہ پہلے ہی ٹیکس ادا کرنے والے اور قانون کی پاسداری کرنے والے کاروباری افراد پر مزید بوجھ ڈالنے سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں مزید بہتری نہیں آئے گی
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی


