فاق ایوانہائے تجارت وصنعت۔ پاکستان کی اقتصادی صالحیت کو عملی تجارت اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ECO عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی (18 اگست 2026ء): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اور خطے کی وسیع اقتصادی صالحیت -ECO CCI آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر، عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ کو حقیقی تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے عالقائی رابطوں، تجارت میں سہولت کے ایک اعل ٰی سطحی اجالس سے -ECO CCI کاری اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ رکن ممالک کے قومی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے -ECO CCI خطاب کرتے ہوئے، جس میں تمام نمائندوں نے شرکت کی،صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ خطے کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت، وافر قدرتی وسائل اور 50 کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل بڑی مارکیٹ کے باوجود باہمی عالقائی تجارت اپنی حقیقی صالحیت سے کہیں کم ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اب محض مذاکرات اور اجالسوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ، کسٹمز کے طریقہ کار کو آسان بنانا، کاروباری افراد کی نقل و حرکت میں سہولت، سڑکوں اور ریلوے کے ذریعے عالقائی رابطوں کی بحالی، CCI خصوصاً ٹرین کو فعال کرنا، اور کاروباری اداروں کے درمیان بزنس ٹوبزنس روابط کو مضبوط بنانا ضروری -ECO کو 27-2026 کے لیے ایک عملی -ECO CCIہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے تجویز دی کہ ایکشن ایجنڈا تیار کرنا چاہیے؛ جس میں واضح اقدامات، اہداف اور پیش رفت کی نگرانی کا مؤثر نظام موجود ہو؛ جبکہ مختلف اقدامات کی ذمہ داری متعلقہ نیشنل چیمبرز کو سونپی جائے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے روایتی تجارت سے آگے بڑھ کر مشترکہ پیداوار اور عالقائی ویلیو چینز کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا؛ خصوصا زراعت و فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، معدنیات، توانائی، انجینئرنگ، ادویہ سازی اور آئی ٹی کے شعباجات اہم ً سرمایہ کاری میں سہولت کاری، خواتین کی کاروباری ،SMEs ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے تجارتی نمائشوں اوربزنس ٹو بزنس فورمز کے انعقاد پر بھی -ECO CCI سرگرمیوں، سیاحت اور باقاعدگی سے توجہ دینے کی تجویز دی؛ تاکہ خطے کے مختلف ممالک کے کاروباری افراد کو ایک دوسرے سے براِہ راست منسلک خطے -ECO CCI کے سیکریٹری جنرل، اسد مجید خان نے اجالس سے خطاب کرتے ہوئے ECOکیا جا سکے۔ کی نمایاں اقتصادی صالحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالقائی تجارت اب بھی اپنی حقیقی صالحیت سے بہت کم ہے، جس کی بڑی وجوہات میں ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹیں، کسٹمز اور الجسٹکس کے مسائل، کاروباری اداروں کے ،درمیان محدود روابط اور ادائیگیوں سے متعلق مشکالت شامل ہیں۔انہوں نے شرکاء کو تجارت میں سہولت کاری کے حالیہ اقدامات سے -ECO CCI کسٹمز تعاون، ٹرانسپورٹ اور کاروباری نقل و حرکت سے متعلق ،ECOTA اور نیشنل چیمبرز کاروباری روابط قائم کرنے اور نئے تجارتی مواقع تالش کرنے -ECO CCIآگاہ کیا اور کہا کہ کےExpo/Fair Trade ECO کو ایک بڑی -ECO CCI میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسد مجید خان نے انعقاد پر غور کرنے اور ادارے کی استعداد کار کو مزید مضبوط بنانے کی بھی ترغیب دی؛تاکہ تجارتی معلومات، کاروباری شراکت داری اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مؤثر انداز میں فروغ دیا جا سکے۔افغانستان، آذربائیجان، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، تاجکستان، ترکیہ، ترکمانستان اور ازبکستان کے قومی چیمبرز کے نمائندوں نے تجارتی نمائشوں، شعبہ جاتی، بزنس ٹو -ECO CCIاجالس میں اپنے خیاالت اور تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے باقاعدہ بزنس مالقاتوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، بہتر ٹرانسپورٹ اور ویزا سہولیات اور رکن ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیا۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی


