FORGOT YOUR DETAILS?

ایف پی سی سی آئی کا پاکستان–آسیان تجارت اور سرمایہ کاری میں مضبوط شراکت داری پر زور عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

کراچی (17 اگست 2026ء): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ
نے آسیان کے ساتھ زیادہ فعال اور تجارتی بنیادوں پر مرکوز روابط پر زور دیا ہے، جس میں پاکستان اور آسیان
ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی میں تعاون اور کاروباری سطح پر براِہ راست
روابط میں اضافے کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ایف پی سی سی آئی کی جانب سے فیڈریشن ہاؤس، کراچی
میں”پاکستان–آسیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کا فروغ“کے موضوع پر منعقدہ آسیان ڈے
2026 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ آسیان کی بڑھتی
ہوئی اقتصادی اہمیت پاکستانی برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے پاکستان
اور آسیان کے نجی شعبوں کے درمیان کاروباری وفود، نمائشوں، بی ٹو بی مالقاتوں اور ادارہ جاتی روابط کے ذریعے
براِہ راست تعامل کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض
مگوں نے پاکستان–آسیان اقتصادی تعلقات میں موجود وسیع مگر غیر استعمال شدہ امکانات کو اجاگر کیا اور
پاکستان–آسیان بزنس کونسل کے قیام کے لیے ایف پی سی سی آئی کے اقدام پر زور دیا، جو بی ٹو بی تعاون، تجارتی
وفود، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے لیے وقف پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی۔ انہوں نے ٹیکسٹائل، آئی
ٹی، فوڈ پروسیسنگ، زراعت اور ویلیو ایڈیشن، کولڈ اسٹوریج، انجینئرنگ، موٹر سائیکل، سیاحت، ماہی گیری اور بلیو
اکانومی میں تعاون کے لیے امید افزا شعبے قرار دیا۔ انہوں نے کاروبار، سیاحت اور کارگو کی نقل و حرکت کو آسان
بنانے کے لیے فضائی اور بحری رابطوں میں بہتری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر
نائب صدر حنیف گوہر نے آسیان کے ساتھ موجود خوشگوار سفارتی تعلقات کو مضبوط تجارتی شراکت داری میں تبدیل
کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے آسیان کی نمائشوں میں پاکستانی کمپنیوں کی زیادہ شرکت، چیمبرز اور تجارتی انجمنوں
کے درمیان باقاعدہ روابط، اور مشترکہ منصوبوں اور مارکیٹ پر مبنی کاروباری تعاون پر زیادہ توجہ دینے کی
ضرورت پر زور دیا۔تقریب میں آسیان کے رکن ممالک کے قونصل جنرلز اور سفارت کاروں، آسیان کے ڈائیالگ اور
سیکٹرل ڈائیالگ پارٹنر ممالک کے نمائندوں، ِ وزارت خارجہ، ایف پی سی سی آئی کی بزنس کونسلز کے چیئرمینز،
JETRO ممتاز کاروباری شخصیات اور بین االقوامی تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اداروں، جن میں
بھی شامل ہیں نے شرکت کی۔آسیان کے سفارتی نمائندوں نے اپنی اپنی منڈیوں میں موجود مواقع کے KOTRA اور
بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں اور پاکستانی کاروباری اداروں کو تجارت اور سرمایہ کاری میں مزید تعاون کے
کے ڈائریکٹر KOTRAاور Itonaga Masatomo کے کنٹری ہیڈ JETRO امکانات تالش کرنے کی ترغیب دی۔
نے بھی ایشیائی منڈیوں، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور کاروباری روابط کے حوالے Hwang Sungwoon جنرل
سے اپنے خیاالت کا اظہار کیا۔پاکستان کی جانب سے آسیان کے لیے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلر نسیم راشد، مالئیشیا
ایکسٹرنل ٹریڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے نادر علی گھانگھرو اور فلپائن کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں آسیان ممالک
کے لیے ٹیکنیکل ایڈوائزر محترمہ ماریا یوجینیا نے بھی پریزنٹیشنز دیں، جن میں پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے
ِق مخصوص منڈیوں اور مختلف شعبوں میں موجود مواقع کو اجاگر کیا گیا۔تقریب کا اختتام اس مضبوط
اتفا رائے پر ہوا
کہ پاکستان–آسیان کے دیرینہ تعلقات کو ٹھوس اقتصادی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل کاروباری سطح کے
روابط، تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ، مشترکہ منصوبے، نمائشوں میں شرکت اور مضبوط ادارہ جاتی تعاون
ضروری ہے۔ایف پی سی سی آئی نے آسیان کے سفارتی مشنز، کاروباری تنظیموں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ
قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا؛ تاکہ پاکستان–آسیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط، وسیع
تر اور باہمی طور پر فائدہ مند بنایا جا سکے۔ اور ملک مزید تباہ کن نقصانات سے بچ سکے

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔

سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

TOP