ایف پی سی سی آئی کاروباری الگت میں کمی کے لیے اندرونِ ملک واٹر ٹرانسپورٹ میں دستیاب وسیع کاروباری مواقع سے ملک کے لیے معاشی فوائد حاصل کرنا اہم سمجھتی ہے عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی (7 جوالئی 2026ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ کی ''ان ملک آبی وسائل کے انتظام اور ِ درون میزبانی میں ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس، فیڈریشن ہاؤس کراچی میں کاروباری مواقع'' کے موضوع پر ایک اعل ٰی سطحی اجالس منعقد ہوا۔اجالس میں معروف آبی ماہر کموڈور نعیم سرفراز ان ملک آبی نقل و حمل کے شعبے کی اسٹریٹجک، اقتصادی اور تجارتی ِ درون نے تفصیلی پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے ان ملک ِ درون اہمیت اور اس کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ آبی نقل و حمل کی صالحیت سے بھرپور استفادہ ملکی معیشت کے بہترین مفاد میں ہے؛ کیونکہ اس شعبے میں بے شمار منافع بخش کاروباری مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک اپنے قدرتی وسائل سے بھرپور اقتصادی فوائد حاصل کر رہے ہیں؛ جبکہ ایف پی سی سی آئی بھی پاکستان میں آبی نقل و حمل اور آبی وسائل کے مؤثر انتظام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر ُپرعزم ہے؛ تاکہ ملک کو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بنایا جا ِ درون ملک آبی راستوں کا سکے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ اٹک سے کراچی تک ان ایک مؤثر اور مربوط نظام کامیابی سے قائم کیا جا سکتا ہے؛ جوکہ ملک میں سستی اور مؤثر نقل و حمل کے فروغ ان ملک آبی ِ درون کے سرپرس ِت اعل ٰی ایس ایم تنویر نے کہا کہ (UBG) میں اہم کردار ادا کرے گا۔یونائیٹڈ بزنس گروپ نقل و حمل کا شعبہ نجی سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کے حوالے سے بے پناہ صالحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں الجسٹکس اور الگت کی بلند شرح کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے؛ جبکہ اس وقت سڑکوں کے ذریعے ساالنہ تقریباً 239 ارب ٹن سامان کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اگر سامان کی ترسیل آبی راستوں کے ذریعے کی جائے تو الجسٹکس الگت سڑک کے مقابلے میں 10 گنا تک اور ریلوے کے مقابلے میں 3 گنا تک کم کی جا سکتی ہے۔اجالس کے کلیدی مقرر اور پاکستان کے ممتاز آبی ماہر کموڈور نعیم سرفراز نے بتایا کہ اندرون ملک مشرق سے مغرب تک بعض تجارتی آبی آپریشنز کا آغاز ہو چکا ہے؛ جبکہ متعلقہ شراکت داروں کے تعاون سے شمال سے جنوب تک آبی تجارتی سرگرمیوں کا آغاز بھی جلد متوقع ہے۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی انتہائی ضروری ہے اور ایف پی سی سی آئی اپنے اراکین کو آبی نقل و حمل کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن ان ملک آبی نقل و حمل کے کامیاب عالقائی ماڈلز پہلے ہی ِ درون تعاون اور سہولت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجود ہیں، جن میں بنگلہ دیش ایک نمایاں مثال ہے، جہاں اس نظام سے نمایاں اقتصادی فوائد حاصل کیے جا رہے ان ملک آبی نقل و حمل ِ درون ہیں۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان نے کہا کہ کو فروغ دے کر پاکستان میں کاروبار کرنے کی مجموعی الگت میں نمایاں کمی الئی جا سکتی ہے، جس سے معیشت کو خاطر خواہ ریلیف ملے گا۔ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے فریٹ اخراجات کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق ِش پاکستان میں سڑک کے ذریعے سامان کی ترسیل کی الگت 11 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے، جس کے پی نظر متبادل اور کم الگت ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کی ترقی ملکی اقتصادی بقا ء کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی



