FORGOT YOUR DETAILS?

مانیٹری پالیسی میں جمود کو معیشت کے لئے غیر پیداواری سمجھتی ہے (FPCCI (ایف پی سی سی آئی امریکہ ایران امن معاہدے سے مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئے گی: عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

اور اکنامک کوآپریشن ( FPCCI) کراچی (15 جون 2026)ایف پی سی سی آئی (FPCCI) انیٹری پالیسی میں جمود کو معیشت کے لئے غیر پیداواری سمجھتی ہے امریکہ ایران امن معاہدے سے مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئے گی: عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی: صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، عاطف اکرام شیخ، نے پیر کے روز منعقد ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجالس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے معاشی طور پر غیر پیداواری مانیٹری پالیسی کو برقرار رکھنے کی مخالفت کی ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ڈبل ڈیجٹ میں منجمد پالیسی ریٹ ملک کی معاشی بقا کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرض کی الگت میں کمی النے میں ناکامی سے ڈی انڈسٹریالئزیشن )صنعتوں کی بندش( میں تیزی آئے گی اور برآمدی اہداف کو شدید نقصان پہنچے گا، جو کہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

عاطف اکرام شیخ نے تجارت اور صنعت کو درپیش چیلنجز سے مرکزی بینک کی عدم توجہی اور التعلقی پر گہری تشویش کا
اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سہولت کاری سے ہونے والے متوقع امریکہ ایران امن معاہدے اور عالمی سطح پر توانائی
کی ترسیل بتدریج معمول پر آنے کی توقعات کے باعث افرا ِط زر میں کمی آئے گی؛ لٰہذا، پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کا یہ فیصلہ
انتہائی افسوسناک ہے

عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ ہم پورے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں کاروباری الگت (cost of doing buisness) کے بحران کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا ضرورت سے زیادہ محتاط رویہ نجی شعبے کو ضروری سرمائے سے محروم کر رہا ہے۔ ہم اپنے اس غیر متزلزل مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں کہ ملکی مارکیٹ کے حقائق اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) ے وژن سے ہم آہنگ، معقول اور سنگل ڈیجٹ شرح سود کے بغیر ہماری معیشت ترقیاتی ماڈل )model growth )کی جانب منتقل نہیں ہو سکتی۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر، ثاقب فیاض مگوں، نے موجودہ معاشی ماحول کے غیر پائیدار ہونے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بینچ مارک پالیسی ریٹ نے سرمائے کی الگت میں مصنوعی طور پر اتنا اضافہ کر دیا ہے جسے کوئی بھی کاروبار برداشت نہیں کر سکتا۔ ہمارے عالقائی حریف نمایاں طور پر کم قرض کی الگت کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستانی برآمدات عالمی میدان میں غیر مسابقتی ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمود کو برقرار رکھنا ایس ایم ایز (SMEs) اور بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ دونوں کو یکساں طور پر سزا دینے کے مترادف ہے، جو مؤثر طریقے سے صالحیت میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے عمل کو روک رہا ہے۔

ف پی سی سی آئی کے نائب صدر اور ریجنل چیئرمین سندھ، عبدالمہیمن خان، نے اس بات پر زور دیا کہ طویل عرصے سے جاری اس بلند شرح سود کے ماحول کے کاروبار پر اثرات تباہ کن ہیں۔ ہم صنعتی مراکز میں فیکٹریوں کی بندش اور پیداواری سرگرمیوں میں کمی دیکھ رہے ہیں۔ یہ جمود استحکام کا پیمانہ نہیں ہے؛ بلکہ یہ معاشی تعطل کا نسخہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی شعبے کو اپنا وجود برقرار رکھنے، توانائی کے بھاری نرخ ادا کرنے اور اپنی ورک فورس کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اور ٹھوس ریلیف کی ضرورت ہے

ایف پی سی سی آئی کی قیادت اجتماعی طور پر فوری اور خاطر خواہ مانیٹری نرمی (monetary easing) کے سائیکل کے مطالبے کا اعادہ کرتی ہے۔ اعل ٰی ترین تجارتی ادارہ وفاقی حکومت، وزارت خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر اس نقصان دہ نقطہ نظر پر نظر ثانی کریں اور آئندہ ایم پی سی (MPC) جالس میں شرح سود میں فیصلہ کن کمی کرتے ہوئے اسے سنگل ڈیجٹ میں الئیں۔

ایف پی سی سی آئی کا موقف ہے کہ معاشی استحکام کے ماڈل سے تیزی کے ساتھ جارحانہ اور برآمدات پر مبنی ترقیاتی فریم ورک کی طرف منتقل ہوئے بغیر، ملک کو اپنی صنعتی بنیاد میں مستقل تعطل کا خطرہ الحق رہے گا

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔

سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

TOP