ممبرکسٹمز آپریشنز نے تاجر برادری کورکاوٹیں دور کرنے اور آپریشنل نظام کو بہتر بنانے کی یقین دہانی کروا ئی ہے عاطف اکرام شیخ، صدرایف پی سی سی آئی
کراچی ( 06 اپریل 2026) صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ ممبر کسٹمز آپریشنز سید شکیل شاہ کے ساتھ فیڈریشن ہاؤس کراچی میں اہم مشاورتی اور انٹرایکٹو اجالس منعقد ہوا؛ جس میں کسٹمز ڈیپارٹمنٹ سے متعلق موجودہ اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر فیس لیس سسٹم، پری ارائیول کلیئرنس اور دیگر ڈیجیٹل اقدامات کو سراہا گیا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ یہ اجالس ملک بھر سے فزیکل اور ورچوئل شرکت کے ذریعے منعقد کیا گیا؛ جس کا مقصد باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو، عملی اور اصالحاتی تجاویز پیش کرنا اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنا تھا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مؤثر بارڈر اور پورٹ مینجمنٹ معیشت کے استحکام اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں؛ کیونکہ تجارت اور صنعت کا انحصار ہموار کسٹمز نظام پر ہے۔ فیس لیس سسٹم اور پری ارائیول کلیئرنس جیسے اقدامات کاروبار میں آسانی اور ڈیجیٹالئزیشن کے لیے ایف پی سی سی آئی کے دیرینہ مطالبات تھے۔اجالس میں اٹھائے گئے نکات کے جواب میں ممبر کسٹمز آپریشنز سید شکیل شاہ نے کاروباری برادری کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ کسٹمز کے (ADRCs) لیبارٹری کی اپ گریڈیشن؛ شکایات کے نظام کی بہتری اور آلٹرنیٹیو ڈسیپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں مؤثر استعمال کو اہمیت دی جائے گی۔ ممبر کسٹمز نے تاجروں اور کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے جائز کیسز مکمل دستاویزات کے ساتھ کسٹم حکام کو فراہم کریں؛تاکہ ان کو قانونی دائرہ کار میں موجود ممکنہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو درپیش روزمرہ کوڈز، کلیئرنس میں تاخیر اور نظامی خامیوں کی نشاندہی کی اور ایک شفاف، HS ،مسائل جیسے ویلیوایشن تنازعات تیز اور ڈیجیٹل نظام کے قیام پر زور دیا۔ سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کسٹمز لیبارٹری کی اپ گریڈیشن میں تاخیر پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وسائل اور افرادی قوت کی کمی نہیں ہے، اس لیے جدید اور بین االقوامی معیار کی لیبارٹری قائم کی جانی چاہیے؛ تاکہ غیر ضروری تاخیر اور اضافی اخراجات سے بچا جا کی نشاندہی time dwell سکے۔نائب صدر ایف پی سی سی آئی آصف سخی نے بندرگاہوں پر آپریشنل تاخیر اور زیادہ کی؛ جس سے کاروباری الگت بڑھتی اور مصنوعات کی مسابقت کم ہوتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایکسپورٹ کے تحت درآمد شدہ سامان کو ویلیوایشن رولنگ سے مستثن ٰی رکھا جائے۔نائب صدر ایف پی (EFS) فیسیلیٹیشن اسکیم کے لیے معاون بنایا SMEs سی سی آئی امان پراچہ نے زور دیا کہ کسٹمز طریقہ کار کو جدید، مزید قابل اعتماد اور جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ محض اسمگلنگ کے شبہ پر سامان ضبط کر لیا جاتا ہے؛ حاالنکہ زیادہ ترکیسز بعد میں قانونی طور پر ٹھیک ثابت ہوجاتے ہیں؛ مگر اس دوران 2 سے 3 ماہ کی تاخیر اور اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔اجالس کے اختتام پر ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پاکستان کسٹمز کے ساتھ مل کر ملک میں تجارت اور صنعت کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی


