FORGOT YOUR DETAILS?

ایف پی سی سی آئی کی شرح سود خطے کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں ِ ملک میں پیٹرول اور عاطف اکرام شیخ

کراچی(9 مارچ 2026ء): صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وفاقی حکومت سے فوری طور پر ملک میں انرجی مشر ِق وسط ٰی میں قاب اعتماد اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے؛ تاکہ ِل ایمرجنسی نافذ کرنے اور متبادل و ہنگامی منصوبہ بندی کے جاری تنازع کے پاکستان کی محدود معاشی بحالی کے تحفظ اور ملکی ایکسپورٹ پر پڑنے والے شدید منفی اثرات سے بچاؤ کیا جا سکے۔عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ پیٹرولیم قیمتوں میں خطے کے مقابلے میں غیر مسابقتی اضافہ جو کہ پہلے ہی 55 شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رہنے کے باعث پاکستان میں کاروبار ی الگت ناقاب ِل ِ روپے فی لیٹر تک بڑھ چکا ہے اور برداشت حد تک بڑھ جائے گی۔ اس کے نتیجے میں صنعتی ترقی کو شدید دھچکا لگے گا اور برآمدات کی سست روی مزید بڑھ ِ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب خطے کے دیگر ممالک سنگل ڈیجٹ شرح سود کے ذریعے صنعتوں کو سہارا دے رہے ہیں اور پیٹرولیم قیمتوں کو متوازن رکھ رہے ہیں، پاکستان میں مہنگی فنانسنگ سرمایہ کاری اور صنعتوں کی ماڈر نائزیشن کو مفلوج کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ الجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور کیپٹو پاور جنریشن کے اخراجات میں مزید اضافہ کر رہا ہے؛ جس سے صنعتکاروں کے منافع شدید متاثر ہو رہے ہیں۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کی صنعت مزید کسی بیرونی جھٹکے کی متحمل نہیں ہو سکتی؛ کیونکہ ملک توانائی کے لیے بڑی حد تک خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے، جن میں سعودی عرب،یواے ای اور قطرشامل ہیں۔ اگر خام تیل یا ایل این جی کی سپالئی میں رکاوٹ آئی تو اس سے مہنگائی میں اضافہ اور عوام کے لیے زندگی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ جنگی خطرات کے باعث میرین انشورنس پریمیم میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے؛ جبکہ بڑے شپنگ روٹس پر فریٹ چارجز میں 300 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح ایل این جی کی یومیہ فریٹ ریٹس میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ان کے مطابق خلیج سے ہٹ کر شپمنٹس کے نئے راستوں کی وجہ سے سپالئی چین میں تاخیر متوقع ہے؛جس سے پاکستانی برآمدات کو امریکہ، برطانیہ اور یوپین یونین تک پہنچنے میں 15 سے 20 دن اضافی لگ سکتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی بندرگاہیں، خصوصا پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ، خلیجی شپنگ روٹس سے براِہ راست ً منسلک ہیں، جس کے باعث ملکی سپالئی چین سمندری رکاوٹوں اور تاخیر کے خطرے سے دوچار ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے پاس صرف 28 دن کے پیٹرولیم ذخائر موجود ہیں؛ جو کسی طویل عالقائی تنازع کے لیے ناکافی ہیں۔ اگر کشیدگی برقرار رہی تو ملک کو شدید معاشی جھٹکا لگ سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس نازک وقت میں حکومت، ریگولیٹرز اور کاروباری برادری کے درمیان مربوط ایکشن پالن انتہائی ضروری ہے۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدرثاقب فیاض مگوں نے مطالبہ کیا کہ قومی اسٹریٹجک آئل ریزرو کے قیام کے لیے فوری فریم ورک بنایا جائے؛ تاکہ موجودہ 28 دن کے ذخائر کو بڑھا کر 60 سے 90 دن تک کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات کی مسابقت کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے، اس لیے درآمدی خام مال کی بڑھتی قیمتوں اور ممکنہ ایکسچینج ریٹ کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ٹارگیٹڈ پالیسی اقدامات کیے جائیں۔ایف پی سی سی آئی نے حکومت کویقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اس غیر یقینی عالمی صورتحال میں پاکستان کی تجارت اور صنعت کے تحفظ کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر ہنگامی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد میں مکمل تعاون کرے گی۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائر

ڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

TOP