یف پی سی سی آئی اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ مسترد کر تی ہے ِ عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
جنوری 2026(کراچی): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ 26 بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر شدید مایوسی اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ملک کے اعل ٰی ترین تجارتی ادارے نے اس فیصلے کو ملک میں صنعتی بحالی کی اشد ضرورت کے تناظر میں غیر مؤثر اور سخت مایوس کن قرار دیا ہے۔عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ کاروباری برادری نے واضح طور پر 3.5 فیصد یا 350 بیسس پوائنٹس کی نمایاں کمی کا مطالبہ کیا تھا؛تاکہ، پالیسی ریٹ کو فوری طور پر 7 فیصد تک الیا جا سکے۔انہوں نے ِش وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق کے پی نظر اسٹیٹ بینک کا غیر ضروری محتاط رویہ سمجھ سے باالتر ہے؛ کیونکہ، بنیادی افرا ِط زر گزشتہ کئی مہینوں سے مستحکم ہو کر تقریبا 5 فیصد کے آس پاس ہے اور دیگر اہم معاشی اشاریے بھی ً اقتصادی ترقی کی اشد ضرورت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں صنعت کو مالی وسائل تک رسائی بدستور محدود رہے گی۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اس وقت صنعت مہنگی توانائی اور بلند شرح سود کے ِ باعث ایک وجودی بحران سے دوچار ہے۔ معیشت کو متحرک کرنے کے لیے 3.5 فیصد کی”شاک تھراپی“درکار تھی؛ مگر اس کے بجائے شرح سود کو برقرار رکھا گیا؛ جو کہ کاروباری الگت میں کمی کے لیے کوئی بھی مدد فراہم نہیں کرے گا۔صدر ایف ِ پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ سرمائے کی بلند الگت ملک میں صنعتی یونٹس کی بندش اور پاکستانی برآمدکنندگان کی عالمی منڈی میں مسابقت سے محرومی کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ مانیٹری پالیسی جائزے میں شرح سود کو جارحانہ انداز میں کم کر کے سنگل ڈیجٹ میں نہ الیا گیا تو رواں مالی سال کے لیے برآمدات ِ اور صنعتی توسیع کے اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے۔صدر ایف پی سی سی آ ئی عاطف اکرام شیخ نے فیڈریشن کے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ِ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ افرا ِط زر کے مطابق النے کے لیے فوری طور پر مانیٹری پالیسی کا ازس ِرنو جائزہ لیا جائے؛ اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 7 فیصد تک النے کے لیے واضح روڈ میپ دیا جائے اور مینوفیکچرنگ یونٹس کو مہنگے خام مال اور مالیاتی الگت کے باعث بند ہونے سے بچانے کے لیے”انڈسٹریل ایمرجنسی“کا اعالن کیا جائے۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے پالیسی ریٹ اور افرا ِط زر کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی شرح سود خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں غیر پائیدار حد تک ِ بلند ہے۔سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے مزید کہا کہ جب افرا ِط زر میں واضح کمی آ چکی ہے تو شرح سود کو ڈبل ڈیجٹ میں برقرار رکھنا بالجواز ہے۔ یہ فیصلہ نجی شعبے کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے، ایس ایم ایز کے لیے ِ فنانسنگ تک رسائی محدود کر رہا ہے اور برآمدی مسابقت کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اسٹیٹ بینک حکومت کے صنعتی ترقی اور برآمدی سہولت کاری کے وژن کے ساتھ مانیٹری پالیسی کو ہم آہنگ کرنے کا ایک اہم موقع گنوا چکا ہے۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

