FORGOT YOUR DETAILS?

ایف پی سی سی آئی کا ملک کو معاشی تباہی سے بچانے کے لیے انڈسٹریل ایمرجنسی کا اعالن کیا جائے عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی (ایس۔ ایم۔ تنویر، سرپرس ِت اعل ٰی، یونائیٹڈ بزنس گروپ) (یو بی جی)

جنوری : 2026 فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے وفاقی حکومت سے 16 پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں فوری طور پر انڈسٹریل ایمرجنسی کا اعالن کیا جائے؛ کیونکہ، ملک کا صنعتی و پیداواری ڈھانچہ ایک ایسے نظامی اور ناقاب ِل واپسی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے کہ جس سے نکلنا مشکل ہو تا جائے گا۔ عاطف اکرام شیخ نے واضح کیا کہ ایف پی سی سی آئی انکریمنٹل پیکیج کو مسترد کرتی ہے؛ کیونکہ تاحال کسی بھی صنعت کو 22 روپے فی یونٹ بجلی کا بل موصول نہیں ہوا، جبکہ صنعتوں کو مسلسل 34 تا 35 روپے فی یونٹ کے بل موصول ہو رہے ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ اور یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سرپرس ِت اعل ٰی ایس۔ ایم۔ تنویر نے کہا ہے کہ پاکستان میں ریجن کے مقابلے میں غیر مسابقتی بجلی کے نرخ، بلند شرح سود اور سخت ٹیکس نظام کے مہلک امتزاج نے مقامی صنعت ِ کے لیے عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ انہوں نے جمود کا شکار رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی حالت زار کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ اس شعبے کی بدحالی کے باعث اس سے وابستہ 40 مزید صنعتیں بھی شدید مشکالت کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ انتہائی زیادہ انکم ٹیکس کے باعث صنعت دباؤ میں ہے، اس لیے ایف پی سی سی آئی صنعت پر انکم ٹیکس کی شرح 39 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کا مطالبہ کرتی ہے؛ جبکہ تنخواہ دار طبقے پر زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس 15 فیصد ہونا چاہیے۔ اسی طرح برآمدی مسابقت کے لیے صنعتوں کو فراہم کی جانے والی گیس کا ٹیرف موجودہ 3,900 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے کم کر کے 2,400 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کیا جائے۔انہوں نے یوٹیلیٹی اخراجات میں تشویشناک فرق کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی برآمدکنندگان اس وقت 12.5 سینٹ فی یونٹ بجلی ادا کر رہے ہیں؛ جبکہ بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے عالقائی حریف ممالک میں یہی الگت 6 سے 9 سینٹ فی یونٹ ہے، جو پاکستانی مصنوعات کے بڑے عالمی مقابل ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ اس فرق کے باعث ملک میں تیز رفتاری سے انڈسٹر ی ختم ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں صنعتی یونٹس بند ہو چکے ہیں اور سرمایہ بڑی تیزی سے زیادہ کاروبار دوست ممالک کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت اب کراس سبسڈی کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتی؛ کیونکہ یہ درحقیقت قومی پیداوار اور انڈسٹری کی قیمت پر دیگر شعبوں کو دی جانے والی امداداور ایک پوشیدہ ٹیکس ہے۔یو بی جی کے سرپرس ِت اعل ٰی ایس۔ ایم۔ تنویر نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر، جو پاکستان کی برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، شدید وجودی بحران سے دوچار ہے اور 100 سے زائد ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں۔ انہوں نے افرا ِط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کے بلند شرح سود پر انحصار کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ِ سے لیکویڈیٹی کا بحران پیدا ہوا، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی رک گئی اور صنعتی توسیع مکمل طور پر سست ہو گئی (MPC (ہے۔ایس ایم تنویر نے زور دیا کہ ایف پی سی سی آئی کا مطالبہ ہے کہ 26 جنوری کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجالس میں پالیسی ریٹ کو موجودہ 10.5 فیصد سے کم کر کے فو ری طور پر 9 فیصد کیا جائے اور بعد ازاں اگلے تین ایم پی سی اجالسوں میں بتدریج اسے 6 فیصد تک الیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، برآمدی صنعت کے لیے خصوصی ٹیرف اور ٹیکسوں میں معقول کمی نہ کی گئی تو پاکستان اپنے برآمدی اہداف حاصل نہیں کر سکے گا۔پیٹرن ان (SIFC (چیف یو بی جی ایس ایم تنویر نے ایک کثیر الجہتی بحالی منصوبہ پیش کرتے ہوئے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل سے بھی مداخلت کی اپیل کی۔ ایف پی سی سی آئی کے مطالبات میں آئی پی پیز کے لیے مکمل ٹیک اینڈ پے ماڈل کا نفاذ، کے تحت تمام زیر التواء سیلز ٹیکس ریفنڈز کی فوری ادائیگی، برآمدی شعبے کے لیے فوری (EFS) ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم طور پر 9 سینٹ فی یونٹ فلیٹ بجلی ٹیرف اور اگلے سال تک اسے 7 سینٹ فی یونٹ تک کم کرنا شامل ہے۔ایس ایم تنویر نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے صنعت کو معاشی وسائل اور مالی مراعات پر اولین حق نہ دیا تو اس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ اور زرمبادلہ کے شدید نقصانات ہوں گے، جو ملک کو ایک ناقاب ِل واپسی معاشی زوال کی طرف دھکیل دیں گے

TOP