وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی ایف پی سی سی آئی سے مشاورت پر نظرثانی کا مطالبہ FTAs فیڈریشن کا حکومت سے موجودہ ثاقب فیاض مگوں، قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی(24دسمبر 2025) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر ثاقب فیاض مگوں نے کا جامع (FTAs) حکوم ِت پاکستان پر زور دیا ہے کہ تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے تمام موجودہ فری ٹریڈ ایگریمنٹس جائزہ لیا جائے اور ان معاہدوں کے فوائد کو پاکستانی ایکسپورٹرز تک بھی مؤثر انداز میں پہنچانے کا اہتمام کیا جا ئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے ممالک کے ساتھ ہونے والے ایف ٹی ایز کو بھی اسی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے فعال بنایا جائے؛تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے غیر مساوی اور نقصان دہ حاالت سے بچا جا سکے۔یہ امر قاب ِل ذکر ہے کہ وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ، رانا تنویر حسین نے پاکستان کی غذائی برآمدات میں حالیہ کمی کے تناظر میں ایف پی سی سی آئی وزیراعظم پاکستان کی اس ہدایت کے تحت کیا جا رہا ہے کہ جس ِ سے تفصیلی مشاورت کی ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ یہ اقدام میں کاروباری طبقے کو اعتماد میں لینے پر زور دیا گیا ہے۔رانا تنویر حسین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کاروباری، صنعتی اور تاجربرادری کے خدشات حقیقی اور درست ہیں، جن کا حل نکالنا برآمدات میں کمی کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے ایف پی سی سی آئی کو یقین دالیا کہ حکومت ٹیکس پالیسی، صنعتی حکم ِت عملی، شعبہ جاتی اصالحات اور برآمدی فروغ کے اقدامات میں مشاورتی عمل کو یقینی بنائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ اور اس کے ذیلی ادارے بہترین معیار کے بیج وافر مقدار میں اور بروقت فراہم کرنے کے لیے بھرپور اور مسلسل کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ وہ اپنے آئندہ دورے میں متعلقہ وزارتوں کے وفاقی سیکریٹریز کو بھی ساتھ الئیں گے۔قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے نشاندہی کی کہ غذائی اور زرعی بنیادوں پر مبنی برآمدات میں کمی کے تین بڑے اسباب ہیں:اول، بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ایف ٹی ایز کی نو ازسر تشکیل کی ضرورت ہے؛دوم، اہم فصلوں کے لیے اعل ٰی ِ معیار کے بیجوں کی فراہمی میں مسائل ہیں اور سوم، زرعی شعبے اور برآمد کنندگان کو مختلف خطوں اورممالک کے تعمیلی معیارات پر پورا اترنے میں سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار، سپالئی چین اور (Compliance) برآمدات سے متعلق مسائل پر مؤثر، اعداد و شمار پر مبنی اور جامع مکالمے کے لیے وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ، وفاقی وزیر تجارت اور ایف پی سی سی آئی کا مشترکہ اجالس ناگزیر ہے۔قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مضبوط برآمدی معیشت کی بنیاد کے سلسلے میں پیداوار کے معیار کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی سطح پر بیجوں کی فراہمی کی پالیسی اور نظام کو فوری طور پر نافذ کیا جائے؛ تاکہ موسمیاتی میں سرمایہ (R&D) تبدیلیوں کے مطابق زیادہ پیداوار دینے والی اقسام متعارف کرائی جا سکیں۔ساتھ ہی ساتھ، تحقیق و ترقی کاری اور نجی شعبے و تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون بڑھایا جائے؛ تاکہ درآمدی بیجوں پر انحصار ختم ہو۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر امان پراچہ نے اس اعل ٰی سطحی مشاورتی اجالس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے موجودہ تجارتی معاہدوں کو بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے پینظر فوری طور پر ازسر ترتیب دینے کی ضرورت ہے؛ تاکہ مقامی صنعتوں اور زرعی شعبے کو مساوی مواقع مل سکیں۔امان پراچہ نے کہا کہ اگرچہ ایف ٹی ایز کا مقصد منڈیوں تک رسائی بڑھانا ہوتا ہے، تاہم کئی موجودہ معاہدوں کے نتیجے میں درآمدات میں اضافہ ہوا ہے؛جبکہ پاکستانی برآمدات میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں’سب سے پہلے تجارت ‘سفارتی حکم ِت عملی اپنانا ہو گی۔ موجودہ ایف ٹی ایز کا جائزہ لے کر ان میں ویلیو ایڈیڈ زرعی مصنوعات کو شامل کیا جائے اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کیا جائے؛ جو ہماری برآمدی منڈیوں میں پر فوری ( Export Compliance ) رسائی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارق جادون نے برآمدی تعمیل توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ عالمی سطح پر ٹریس ایبلٹی اور فوڈ سیفٹی کے تقاضے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تعمیلی معیارات کو جدید خطوط پر استوار نہ کیا گیا تو پاکستان کی زرعی برآمدات کو شدید خطرات الحق ہو سکتے ہیں۔طارق جادون نے مزید کہا کہ تعمیل اب کوئی آپشن نہیں رہی؛ بلکہ عالمی ویلیو چین میں بقا کے لیے الزمی شرط (SPS) بن چکی ہے۔ایف پی سی سی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ برآمد کنندگان کو سینیٹری اور فائٹو سینیٹری یورپی یونین، برطانیہ اور خلیجی منڈیوں کے لیے پورا کرنے میں تکنیکی معاونت کو تیز کیا جائے۔آخر میں معیارات، خصوصاً ایف پی سی سی آئی نے سفارش کی کہ برآمدات پر مبنی فصلوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک مشترکہ سرکاری و نجی ٹاسک فورس قائم کی جائے۔ بہتر سیڈ ٹیکنالوجی اور سخت بین االقوامی تعمیلی معیارات کو یکجا کر کے پاکستان آئندہ پانچ برسوں میں اپنی زرعی بنیادوں پر مبنی برآمدات کو دوگنا کر سکتا ہے۔

