FORGOT YOUR DETAILS?

کاروباری برادری کا آئندہ بجٹ میں معاشی استحکام سے معاشی ترقی کے ماڈل کی جانب منتقلی کا مطالبہ عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

اور اکنامک کوآپریشن ( FPCCI) کراچی (05 جون 2026) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ مالی سال 27-2026 کے لیے ایف پی سی سی آئی کا جامع شیڈو بجٹ پاکستان کی کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری کی اجتماعی دانش اور مشاورت کا عکاس ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایف پی سی سی آئی وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں اس کی پالیسی سفارشات کو شامل کیا جائے؛ تاکہ بجٹ کا بنیادی مقصد صرف محصوالت میں اضافہ اور معاشی استحکام نہ ہو بلکہ اسے معاشی ترقی پر مبنی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ترقی پر مبنی معاشی حکم ِت عملی ہی پاکستان کو درپیش میکرو اکنامک چیلنجز سے نمٹنے، بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو کم کرنے اور توانائی کی بلند قیمتوں اور زیادہ ِ شرح سود کے باعث شدید مشکالت کا شکار صنعتی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا وہ بنیادی اصالح ہے جس کے ذریعے پاکستان بالواسطہ اور اف ِ راط زر پیدا کرنے والے ٹیکسوں اور موجودہ کارپوریٹ شعبے پر حد سے زیادہ ٹیکس عائد کرنے کی پالیسی سے نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کی پائیدار توسیع صرف رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے خالف سخت کارروائیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے؛ بلکہ ڈیجیٹالئزیشن، ڈیٹا انضمام اور ٹارگیٹیڈ مراعات کے ذریعے نئے ٹیکس دہندگان کو رسمی معیشت میں شامل کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ مختلف اقسام کے ٹیکسز کو مال کر صنعتکاروں پر مجموعی ٹیکس بوجھ 65 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جسے آئندہ وفاقی بجٹ 27-2026 میں کم کرکے 35 سے 40 فیصد کی سطح پر الیا جانا چاہیے؛ تاکہ پاکستانی صنعتیں عالمی منڈی میں مؤثر مقابلہ کرسکیں اور قومی معیشت و برآمدی آمدنی میں بھرپور کردار ادا کرسکیں۔سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ جدید ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے زیادہ آمدنی رکھنے والے کے لیے ٹیکس قوانین کو آسان اور (SMEs) نان فائلرز کی نشاندہی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں سادہ بنا کر حکومت مالی بوجھ کو زیادہ منصفانہ انداز میں تقسیم کرسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی بجٹ کا محور صرف جارحانہ ریونیو وصولی نہیں؛بلکہ وسیع بنیادوں پر معاشی بحالی ہونا چاہیے۔سنیئر نائب صدر ایف پی سی Gاور 5 (AI) سی آئی ثاقب فیاض مگوں کے مطابق پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی سمیت ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز میں قومی سطح پر اسٹریٹجک سرمایہ کاری کرے؛ تاکہ پاکستانی صنعتیں عالمی سطح پر مسابقتی بن سکیں۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اور ریجنل چیئرمین سندھ، عبدالمہیمن خان نے کہا کہ صوبے کی عالقائی صنعتیں اس وقت شدید مالی دباؤ اور لیکویڈیٹی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق بلند شرح سود نے کاروباری اداروں کی عملی استعداد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے ِ وزارت خزانہ سے ِ مطالبہ کیا کہ ایف پی سی سی آئی کی سفارشات کو بجٹ میں شامل کیا جائے، جن میں پیداواری الگت کم کرنے اور حقیقی معنوں میں کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے قاب ِل عمل اقدامات تجویز کیے گئے ہیں؛ تاکہ سندھ سمیت پورے ملک میں صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ شیڈو بجٹ میں شامل تجاویز ایک عملی، حقیقت پسندانہ اور صنعت دوست روڈ میپ فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی بجٹ میں ان اسٹیک ہولڈرز کی سفارشات کو نظرانداز کیا گیا تو ملک مزید معاشی جمود اور صنعتی بندشوں کے خطرات سے دوچار ہوسکتا ہے۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔

سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

TOP