FORGOT YOUR DETAILS?

وفاق ایوانہائے تجارت وصنعت۔ پاکستان ایف پی سی سی آئی کا دوسرے سسٹین ایبل ٹورازم فورم کے موقع پر ای سی او–سی سی آئی جنرل اسمبلی کے انعقاد کا اعالن عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

کراچی ( 15دسمبر 2025) صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری،صدر ای سی او چیمبر آف کامرس عاطف (CACCI) اور نائب صدر کنفیڈریشن آف ایشیا پیسیفک چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ECO-CCI) اینڈ انڈسٹری اکرام شیخ نے آگاہ کیا ہے کہ ایف پی سی سی آئی 22 جنوری 2026 کو کراچی میں ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس میں کی 30ویں ایگزیکٹو کمیٹی میٹنگ اور 20ویں جنرل اسمبلی اجالس کی میزبانی کرے گی۔ یہ اجالس دوسرے ECO-CCI کے موقع پر منعقد ہوں گے؛ جو کہ ایف پی سی سی آئی اور اسالمک چیمبر آف کامرس (STF) سسٹین ایبل ٹورازم فورم کے اشتراک سے 21 تا 22 جنوری 2026 کو منعقد کیا جائے گا۔صدر ایف پی سی سی آئی (ICCD) انڈسٹری اینڈ ڈیولپمنٹ کے یہ اجالس خطے کے لیے غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ہیں؛ کیونکہ ان CCI-ECOعاطف اکرام شیخ نے کہا کہ کے ذریعے عالقائی اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا؛ای سی او ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں اضافہ ہوگا؛ سرمایہ کاری کے مواقع کو تقویت ملے گی؛ کاروباری روابط کو فروغ حاصل ہو گا اور عالقائی اقتصادی انضمام کے لیے ای سی او–سی سی آئی کے ادارہ جاتی کردار کو مزید فعال بنایا جا سکے گا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید بتایا کہ تمام ای سی او رکن چیمبرز کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں اور ایف پی سی سی آئی کو توقع ہے کہ مختلف ای سی او ممالک سے صدور، سینئر عہدیداران، بزنس ٹو بزنس وفود اور مختلف شعبہ جات کے ماہرین ان اجالسوں میں شرکت کریں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سسٹین ایبل ٹورازم فورم ای سی او ممالک کی سیاحتی صالحیت کو اجاگر کرنے؛ ہوا بازی اور مہمان نوازی کے شعبوں میں عالقائی تعاون کو فروغ دینے؛ پاکستان کے سیاحتی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے اور خطے میں پائیدار اور ذمہ دار سیاحت کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ایف پی سی سی آئی کے مطابق، کراچی میں ان اہم تقریبات کی میزبانی سے عالقائی اقتصادی سفارتکاری میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو مزید تقویت ملے گی؛بز نس ٹوبزنس روابط میں اضافہ ہوگا اور ای سی او فریم ورک کے تحت مضبوط اقتصادی اور تجارتی شراکت داری کے لیے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوگا۔

TOP