سمیت (PSQCA )اور پی ایس کیو سی اے (DPP)ایف پی سی سی آئی کا ڈی پی پی کو فعال کرنے کا مطالبہ (RMS) کے آر ایم ایس (OGAs)دیگر گورنمنٹ ایجنسیز عاطف اکرام شیخ
کراچی(23فروری 2026ء): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے پاکستان میں تجارت کے فروغ کے لیے اعظم وزیر پاکستان کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن وژن کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ فیس لیس اسیسمنٹ اور ِ قاب تحسین ہیں۔عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ ان ِل پوسٹ پیمنٹ میکانزم کے تحت پری-ارائیول سہولت جیسے اقدامات بہتریوں کے باوجود ایمپورٹ اور ایکسپورٹ کے ریگولیٹری نظام میں اب بھی چیلنجز موجود ہیں۔ اگرچہ بیشتر ریگولیٹری اس نظام (OGAs)کے ذریعے انجام دی جا رہی ہے اور کئی اہم دیگر گورنمنٹ ایجنسیز (PSW)تجارت پاکستان سنگل ونڈو سے منسلک ہو چکے ہیں؛ تاہم کنسائنمنٹس کی کلیئرنس اب بھی غیر ضروری الزمی معائنوں کے بعد ہی کی جا رہی ہے۔صدر ؛(DPP)ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے زور دیتے ہوئے یہ تجویز پیش کی ہے کہ پالنٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے رسک مینجمنٹ سسٹمز (OGAs)اور دیگر گورنمنٹ ایجنسیز (PSQCA)پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنڑول اتھارٹی کو کسٹمز کے طرز پر فعال کیا جائے۔ ان سرکاری اداروں میں آر ایم ایس کے نفاذ سے درآمدی و برآمدی عمل مزید (RMS) میں کمی واقع ہوگی اور پاکستان (time dwell)مؤثر ہوگا؛غیر ضروری انسپکیشن میں کمی آئے گی؛ کنسائنمنٹس کے دورانیے میں کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ ملے گا۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم کے نفاذ کے ابتدائی مرحلے میں کئی چیلنجز اور تکنیکی مسائل کا سامنا رہا؛ تاہم چیف کلیکٹر واجد علی کی تعیناتی او ر ٹریڈ و انڈسٹری کے ساتھ ان کی مسلسل مشاورت کے نتیجے میں متعدد حقیقی مسائل حل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیس لیس اسیسمنٹ کا نظام اب مؤثر انداز میں تجارت اور صنعت کو فائدہ پہنچا رہا ہے اور کنسائنمنٹس کے قیام کے دورانیے میں بھی بتدریج کمی آ رہی ہے۔ایف پی سی سی آئی نے متعلقہ حکام اور سرکاری اداروں کے ساتھ مشاورتی عمل میں اپنے بھرپور تعاون اور شمولیت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہموار، شفاف، منصفانہ اور مؤثر تجارتی سہولیات کے نظام کے قیام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائر
ڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی


