ایف پی سی سی آئی نے سابق صدر میاں محمد ادریس کو مسلسل ہراساں کیے جانے پر اعل ٰی سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی (27 اگست 2026ء): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ممتاز صنعتکار اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی میاں محمد ادریس کے ساتھ مبینہ طور پر جاری ناروا سلوک، ہراساں کیے جانے اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال پر گہری تشویش، صدمے اور شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر پاکستان کی تمام کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری کی نمائندگی کرنے والی ایک اعل ٰی سطحی رابطہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی منظور الحق ملک کریں گے؛جبکہ سابق صدر ایف پی سی سی آئی زبیر طفیل، سینیٹر میاں محمد عتیق اور کی ایگزیکٹو (FPCCI) سینیٹر طلحہ محمود اس کے اراکین ہوں گے۔یہ امر قاب ِل ذکر ہے کہ ایف پی سی سی آئی کمیٹی کے اجالس میں جمعرات کے روز متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں میاں محمد ادریس کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کے خالف کاروباری برادری کی اجتماعی آواز کے ذریعے اس معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھانے اور اس کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کی پوری کاروباری اور صنعتی برادری میاں محمد ادریس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں قاب احترام قومی شخصیت ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں تک ملک میں صنعتی ترقی، ِل نے کہا کہ میاں محمد ادریس ایک روزگار کے مواقع پیدا کرنے، برآمدات کے فروغ اور فالحی سرگرمیوں کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ممتاز تجارتی رہنماؤں، صنعتکاروں اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے افراد کو بالجواز ہراساں کرنا اور جبری اقدامات کا نشانہ بنانا کسی صورت قاب ِل قبول نہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے کاروباری برادری کے وقار کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کو فوری طور پر معاشی بحالی، سرمایہ کاری کے اعتماد اور صنعتی تسلسل کی ضرورت ہے، اس نوعیت کے واقعات ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے تشویشناک پیغام کا باعث بنتے ہیں۔صدر ایف پی سی کے درمیان ایک (FESCO) سی آئی عاطف اکرام شیخ نے ِستارہ انرجی لمیٹڈ، ِستارہ کیمیکل انڈسٹریز اور فیسکو دہائی پرانے بجلی کی خریداری کے معاہدوں سے متعلق جاری کارروائی پراپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ 2007 سے 2015 کے دوران ہونے والے ان تاریخی کمرشل معاہدوں کی تحقیقات کئی سال تک ادارہ جاتی فائلوں میں زیر التوا رہیں، تاہم اب ایک تجربہ کار کاروباری رہنما کا اچانک پروویژنل نیشنل آئیڈینٹیفکیشن ِ میں نام شامل کرنا، ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنا اور انتظامی سطح پر ہراساں کرنا، شفاف اور منصفانہ (PNIL) لسٹ قانونی عمل کے بجائے غیر ضروری سخت گیری کا مظہر ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ ریاستی اداروں اور انتظامی محکموں کو ہمیشہ قانونی تقاضوں، انسانی وقار اور مروجہ قانونی و آئینی ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر داخلہ، وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام سے براِہ راست اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری اور اعل ٰی سطحی نوٹس لیں، ذمہ دار عناصر کے خالف شفاف تحقیقات کے ذریعے کارروائی اور احتساب یقینی بنائیں اور پاکستان کے صنعتکاروں، کاروباری رہنماؤں اور دیگر کاروباری شراکت داروں کے لیے باعزت، محفوظ اور سازگار ماحول کو یقینی بنایا جائے
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

