امریکہ-ایران کشیدگی کے تناظر میں تجارت اور صنعت کو ممکنہ اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں عاطف اکرام شیخ،صدر ایف پی سی سی آئی
کراچی (13 جوالئی 2026ء): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور نئی عسکری محاذ آرائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور معاشی پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ پاکستان کی نازک معیشت، تجارتی راستوں اور صنعتی شعبے کو ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری طور پر ایک جامع ہنگامی حکم ِت عملی تیار کی جائے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ حالیہ معاشی استحکام اور مالیاتی نظم و ضبط کی جانب پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے فعال اور بروقت معاشی انتظام ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق، خطے میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف عالقائی استحکام بلکہ توانائی کی فراہمی، عالمی تجارتی نظام اور سپالئی چینز کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، جس نے حالیہ عرصے میں استحکام کی حوصلہ افزا عالمات ظاہر کی ہیں، تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے یا سمندری تجارت میں رکاوٹوں کے باعث پیدا ہونے والے اف ِ راط زر کے دباؤ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کاروباری برادری کے ساتھ فوری مشاورت کرتے ہوئے ایسی حکم ِت عملی ترتیب دے جو توانائی کی درآمدات کو محفوظ بنائے اور برآمدی صنعتوں کو ممکنہ بحران سے بچائے۔سنیئر نائب صدرایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ خلیج فارس میں کسی بھی قسم کی کشیدگی پاکستان کی سپالئی چینز اور صنعتی شعبے کے لیے براِہ راست خطرہ ہے۔ ایسی صورتحال میں بحری کرایوں میں غیر معمولی اضافہ، سامان کی ترسیل میں تاخیر اور پیداواری الگت میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور پہلے ہی مہنگی توانائی اور بلند (SMEs) درمیانے درجے کے کاروبار ِ شرح سود کے باعث مشکالت کا شکار ہیں؛ جبکہ خام مال کی فراہمی میں رکاوٹ یا عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے متعدد صنعتیں بند ہو سکتیں ہیں یا مالی بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔ثاقب فیاض مگوں نے حکومت پر زور دیا کہ صنعتی خام مال کی بال تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور غیر ضروری زرمبادلہ کے اخراج پر مؤثر کنٹرول رکھا جائے۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان نے سندھ، خصوصا کراچی کی معیشت پر ممکنہ اثرات کی نشاندہی ً کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا بندرگاہی اور صنعتی مرکز ہونے کے باعث سمندری تجارتی راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے براِہ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی صنعتیں پہلے ہی بلند پیداواری الگت اور دیگر معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں، اس لیے ہر ضلع میں فوری طور پر کاروباری سہولت مراکز قائم کیے جائیں اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے بندرگاہوں پر کاروباری سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کو کم کیا جائے؛ تاکہ برآمدات کا تسلسل برقرار رہے اور تجارتی خسارے میں مزید اضافہ نہ ہو۔ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے متفقہ طور پر ِ وزارت خزانہ، ِ وزارت تجارت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کاروباری برادری کے ساتھ مل کر فوری طور پر ایک (FBR) مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دیں۔ یہ ٹاسک فورس بدلتی ہوئی عالقائی و عالمی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے، ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگائے اور ایسی ہنگامی حکم ِت عملی نافذ کرے جو تجارتی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے ملکی صنعت کو بیرونی معاشی جھٹکوں سے محفوظ رکھ سکے۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی



