FORGOT YOUR DETAILS?

پاکستان کی تاجربرادری ایران کے ساتھ تجارتی قوانین میں نرمی کا خیرمقدم کرتی ہے عاطف اکرام شیخ، صدرایف پی سی سی آئی

کراچی(31 مارچ 2026ء): صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے پاکستان کی وفاقی ِ وزارت تجارت کی جانب سے ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور آذربائیجان کو برآمدات کے لیے مالیاتی انسٹرومنٹس کی الزمی شرط ِر سے عارضی استثنا دینے کے فیصلے کو سراہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بروقت اور کاروبار دوست اقدام وفاقی وزی تجارت جام کمال خان کی بصیرت کا مظہر ہے؛ جوکہ ایف پی سی سی آئی کا دیرینہ مطالبہ بھی تھا۔صدر ایف پی سی اور بینک (LC)سی آئی عاطف اکرم شیخ کے مطابق، 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک کے لیے لیٹر آف کریڈٹ تین ماہ کے عرصے کے لیے دی گئی یہ چھوٹ پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے ایک اہم سہارا ثابت گارنٹی سے تقریباً ہوگی؛ خاص طور پر ان موجودہ نازک عالقائی و سمندری حاالت کے تناظر میں یہ ضروری تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ نرمی پاکستان اور ایران کے درمیان 10 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی؛ جبکہ حالیہ کسٹمز ڈیٹا بھی اس راہداری کی بڑی تجارتی صالحیت کو ظاہر کرتا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ رسمی بینکاری نظام کی رکاوٹوں جوکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سخت ضوابط اور بین االقوامی پابندیوں کے باعث موجود تھیں کو عارضی طور پر ختم کر کے حکومت نے ایک منافع بخش زمینی تجارتی راستہ فعال کر دیا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ خلیجی خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے عالمی جہاز رانی میں تقریبا 90 فیصد کمی واقع ہوئی ہے؛ جس کے پیش نظر زمینی راستوں ً کی جانب منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی سپالئی چین کو مستحکم اور مسابقتی بنائے گا ِ ۔وزارت تجارت زر مبادلہ واپس النے کی یقین دہانی کے ساتھ ایران ِ کے نوٹیفکیشن کے مطابق برآمدکنندگان کو مخصوص مدت میں کے راستے متعدد اشیاء برآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔ سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں کے مطابق درج ذیل شعبوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے؛زرعی اجناس، چاول، مکئی، آلو، پیاز، ٹماٹر، کیلے اور کینو؛پروٹین و سمندری خوراک، گوشت، فروزن چکن اور مختلف سی فوڈ؛ویلیو ایڈیڈ و ضروری اشیاء، ادویات اور ڈیزاسٹر ریلیف خیمے شامل ہیں۔ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں نرمی سے کاروباری الگت اور درکار وقت میں نمایاں کمی آئے گی؛ جس سے پاکستان نہ صرف ایران بلکہ وسطی ایشیا کی منڈیوں تک بھی رسائی حاصل کر سکے گا۔ایف پی سی سی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس عارضی ریلیف کو مستقل اور پائیدار حل میں تبدیل کیا جائے؛ جس میں بارٹر ٹریڈ کے جامع نظام کا قیام شامل ہو۔مزید برآں، سرحدی عالقوں میں انفراسٹرکچر اور کسٹمز سہولیات جیسے پنجگور میں جیراک کسٹمز اسٹیشن کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا؛ تاکہ بڑھتے ہوئے تجارتی حجم کو مؤثر طریقے سے سنبھاال جا سکے۔ایف پی سی سی آئی نے ِ وزارت تجارت کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی برآمدات پر مبنی پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اپنا ہر ممکن کردار ادا کرے گی۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔

سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

TOP