مشر ِق وسط ٰی میں جاری جنگی تنازع سے پاکستان کی معیشت کو محفوظ بنانے کے لیے فوری حکومتی اقدامات ناگزیرہیں عاطف اکرام شیخ، صدرایف پی سی سی آئی
کراچی(02 مارچ 2026ء): صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ نے حکومت ِش نظر پاکستان کی ٹریڈ اور انڈسٹری کو سے مطالبہ کیا ہے کہ مش ِرق وسط ٰی میں بڑھتے ہوئے تباہ کن تنازع کے پی محفوظ بنانے اور ملکی معیشت و عوام کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کا فوری اعالن کیا جائے۔انہوں نے خبردار بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں، کیا کہ یہ جاری جغرافیائی و سیاسی بے یقینی، خصوصاً پاکستان کی نازک معاشی بحالی، توانائی کے تحفظ اور برآمدی مسابقت کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہیں۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ پاکستان کی تجارت و صنعت اس عالقائی تنازع کا ضمنی نقصان برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی؛ چونکہ عالمی پیٹرولیم کھپت کا تقریبا 30 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے؛ ً اس لیے کسی بھی طویل بندش یا خلل کی صورت میں عالمی سپالئی چین شدید متاثر ہوگی۔ لہذا،ہمیں پیشگی اقدامات کے ذریعے اپنی معیشت کو محفوظ بنانا، توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا اور برآمد کنندگان کو بڑھتی ہوئی الجسٹک الگت سے بچانا ہوگا۔عاطف اکرام شیخ نے مش ِرق وسط ٰی کی سپالئی چین پر ملک کے انحصار کو اجاگر کرتے ہوئے اہم اعداد و شمار پیش کیے؛ جن کے مطابق پاکستان ساالنہ 5.7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا خام تیل درآمد کرتا ہے؛ جس کا بڑا حصہ سعودی عرب تقریباً 3.2 ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات تقریباً 2.3 ارب ڈالر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جب کہ ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کو شامل کیا جائے تو مالی سال 2025 میں یہ حجم 10.71 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر کے بحران کے باعث شپنگ الئنز کو متبادل طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں؛ جس سے مال برداری کے اخراجات اور انشورنس پریمیم میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی برآمدات، خصوصا یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ کے لیے بھیجی جانے والی اشیا کی ترسیل میں 15 سے ً 20 دن تک تاخیر ہو سکتی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ اہم بحری راستوں پر فریٹ چارجز میں ممکنہ طور پر 300 فیصد تک اضافہ اور جنگی خطرات کے باعث میرین انشورنس پریمیم میں اضافہ درآمدی خام مال کی الگت بڑھا دے گا؛ جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ برآمدات کی قیمتوں میں مسابقت متاثر ہوگی۔عاطف اکرم شیخ نے تجویز دی کہ قومی معیشت کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت فوری حفاظتی اقدامات کرے؛ اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرے اور تیل کی فراہمی کے لیے متبادل انتظامات طے کرے۔ مزید برآں، اہم اتحادی ممالک خصوصا سعودی عرب کے ساتھ موخر ادائیگی کی سہولتوں پر مبنی معاہدے کیے جائیں؛تاکہ ً خام تیل اور ڈیزل کی بالتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ِ وزارت تجارت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے فریٹ اور انشورنس ریلیف فراہم کیا جائے۔ میرین انشورنس پریمیم اور فریٹ چارجز میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ریلیف پیکج متعارف کرانا ناگزیر ہے؛ بص ِ ورت دیگر ملکی برآمدی آمدنی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ثاقب فیاض مگوں نے زور دیا کہ پاکستان کو مقامی ریفائننگ کی استعداد میں اضافہ کرنا ہوگا اور ملکی ریفائنریز کو مکمل استعداد پر چالنے کے لیے حکومتی معاونت فراہم کی جائے۔ ہمیں ایک مقامی اور مضبوط حکم ِت عملی اپنانا ہوگی؛ جو کہ ہماری توانائی کی ضروریات کو محفوظ بنائے اور برآمدی شعبے کو فعال رکھے۔ ایف پی سی سی آئی حکومت کے ساتھ مل کر اس جغرافیائی و سیاسی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائر
ڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

