جنگی خطرات اور بڑھتے ہوئے فریٹ چارجز پاکستان کی تجارتی صورتحال کے لیے خطرہ بن گئے عاطف اکرام شیخ، صدرایف پی سی سی آئی
کراچی (16 مارچ 2026) صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ مش ِرق وسط ٰی میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے پاکستان کی تجارت اور صنعت کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ کاروباری رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ فریٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سامان کی ترسیل میں تاخیر ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں ایران سے متعلق تنازع کے آغاز کے بعد عالمی شپنگ مارکیٹ شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک چکی ہے جبکہ شپنگ کمپنیوں نے جنگی رسک سرچارج عائد کر دیے ہیں؛ جس سے پاکستان کے لیے بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایف پی سی سی آئی نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے؛تاکہ ملک کی تجارت اور صنعتی شعبے کو تحفظ دیا جا سکے۔ ان کے مطابق خلیجی خطے میں جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام پاکستان کی برآمدی مسابقت ایک چوتھائی ایل این جی کے لیے شدید خطرہ ہے؛ کیونکہ پاکستان کی تقریباً 80 فیصد خام تیل کی درآمدات اور تقریباً آبنائے ہرمز کے راستے سے گزر کر آتی ہے۔ اگر یہ صورتحال طویل عرصہ برقرار رہی تو اس سے زر (LNG) مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا اور مہنگائی میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ الجسٹکس کے شعبے پر اس بحران کے فوری اور بڑے مالی اثرات پڑے ہیں۔ بڑے تجارتی راستوں سے 3500 ڈالر 1500 (TEU) پر کنٹینر فریٹ ریٹس میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے؛ جبکہ شپنگ الئنز نے فی کنٹینر تک ہنگامی جنگی رسک سرچارج نافذ کر دیے ہیں۔عاطف اکرام شیخ نے خبردار کیا ہے کہ یہ الجسٹک رکاوٹیں پاکستان کے اہم برآمدی شعبوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ یورپی یونین اور امریکہ کی منڈیوں تک سامان پہنچنے میں 15 سے 20 دن تک اضافی تاخیر متوقع ہے؛کیونکہ جہاز متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو صرف ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں اسی ماہ 10 سے 20 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران پاکستان کے لیے تجارتی خسارے میں مزید اضافہ برداشت کرنا مشکل ہوگا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ اس بحران کے اثرات ملکی معیشت پر بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ کراچی کی بندرگاہوں پر ٹرانس شپمنٹ رول اوور اور شدید تاخیر کی اطالعات ہیں؛ کیونکہ کئی عالمی شپنگ کمپنیاں خلیجی ممالک کے لیے پاکستان سے کارگو بکنگ عارضی طور پر معطل کر چکی ہیں۔سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ مقامی صنعتکاروں کے لیے صورتحال اس وقت مزید مشکل ہو گئی کہ جب ملک میں ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا؛ جس کے نتیجے میں اندرون ملک ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 15 سے 25 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق 30 دن کے مقررہ اندرون ملک فریٹ معاہدوں پر اب عملی طور پرِ عملدرآمد ممکن نہیں رہا اور ٹریڈرز کو ہر ہفتے ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بارٹر B2B فوری طور پر ہنگامی حکمت عملی تیار کی جائے؛ جس میں پاکستان کے عالقائی شراکت داروں کے ساتھ ٹریڈ کے امکانات کا جائزہ لینا اور متبادل ایندھن کی سپالئی چینز کو یقینی بنانا شامل ہو؛ تاکہ عالمی معاشی اثرات سے ملکی معیشت کو محفوظ رکھا جا سکے۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

