ای سی او (ECO) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ای سی او سی سی آئی (ECO-CCI)، ایف پی سی سی آئی اور ای سی سی آئی کی تنظیم ایکوٹا (ECOTA) ممالک کے مابین تجارت کی غیر استعمال شدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ایکوٹا نو کا مطالبہ کیا ہے
کراچی ( 5 ستمبر 2026ء) ایف پی سی سی آئی کے صدر اور ای سی او چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رکن ممالک کے درمیان باہمی (ECO) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اقتصادی تعاون تنظیم (ECO-CCI) تجارت کو فروغ دینے اور پورے ای سی او خطے کو ایک زیادہ مربوط اور مسابقتی اقتصادی بالک میں تبدیل کرنے کو ازسر مؤثر بنانے اور اس پر عملی و مؤثر طریقے سے عملدرآمد (ECOTA) کے لیے ای سی او ٹریڈ ایگریمنٹ ازسر مؤثر بنانے اور اس پر عملی و مؤثر طریقے سے عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ای سی او خطہ اس وقت عالمی تجارت میں صرف تقریباً 4 فیصد حصہ رکھتا ہے، جبکہ خطے کے اندر باہمی تجارت تقریباً 8.75 فیصد ہے، جو اس خطے کی حقیقی تجارتی صالحیت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ای سی او سی سی آئی کے صدرعاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ای سی او خطہ وسیع اقتصادی فوائد اور وسائل کا حامل ہے، جن میں وافر مقدار میں ہائیڈروکاربن اور معدنی وسائل، نوجوان اور ہنرمند آبادی، ایشیا کو یورپ سے مالنے والی اہم شاہراہوں اور ریلوے کا اسٹریٹجک نیٹ ورک اور چین، بھارت اور روس جیسی بڑی منڈیوں سے قربت شامل ہے۔ تاہم بلند ٹیرف، غیر ٹیرف رکاوٹیں، مصنوعات میں محدود تنوع، تجارتی ادائیگیوں میں مشکالت اور مختلف ممالک کے ریگولیٹری نظام میں فرق عالقائی تجارت کی راہ میں پر 2003 میں دستخط ہوئے تھے اور یہ اپریل 2008 میں ECOTA مسلسل رکاوٹ بن رہے ہیں۔انہوں نے یاد دالیا کہ نافذ العمل ہوا، جس کا بنیادی مقصد ای سی او ممالک کے درمیان ایک آزاد تجارتی خطہ قائم کرنا تھا۔ تاہم ٹیرف کے ڈھانچے میں اختالفات، مصنوعات کی نامکمل فہرستوں اور رکن ممالک کے درمیان فوائد کی منصفانہ تقسیم سے متعلق خدشات کے باعث اس معاہدے پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ای سی او سی سی آئی اور ایف پی سی سی آئی محض کاغذ پر موجود ایک معاہدہ نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں مسلسل ECOTA کے صدرعاطف اکرام شیخ نے کہا کہ زیر التوا معامالت کو حل کرنا ہوگا اور ایسا فریم ورک تشکیل دینا ہوگا جو تمام رکن ممالک کے ِ مذاکرات کے ذریعے لیے متوازن اور منصفانہ فوائد کو یقینی بنائے۔انہوں نے ٹیرف میں کمی کے لیے متوازن حکم ِت عملی اپنانے، مصنوعات میں زیادہ تنوع پیدا کرنے اور عالقائی مسابقت بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی تجویز دی۔ انہوں نے تجارتی ادائیگیوں کے لیے زیادہ مضبوط اور مؤثر نظام وضع کرنے پر بھی زور دیا۔ای سی او سی سی آئی کے صدرعاطف اکرام شیخ نے لین دین کی الگت کم کرنے، ریگولیٹری شفافیت بہتر بنانے، ای کامرس اور ڈیجیٹل تجارت کو فروغ دینے اور عالقائی ٹرانسپورٹ و الجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید تجویز دی کہ ای سی او ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ بینک کے وسائل کو تجارتی فنانسنگ اور عالقائی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی معاونت کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، ای سی او اور ای سی او سی سی آئی کے ایک فعال رکن کی حیثیت سے، عالقائی اقتصادی انضمام کو مضبوط بنانے کے لیے تمام مؤثر اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ ای سی او خطے میں ایک طاقتور اقتصادی بالک بننے کی تمام صالحیتیں موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ کے ذریعے ہمارے وسیع وسائل اور اسٹریٹجک مح ِل ECOTA مضبوط عزم، عملی تجارتی سہولت کاری اور جدید وقوع کو زیادہ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ اقتصادی خوشحالی میں تبدیل کیا جائے۔ بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی



