مالی سال - 27 2026 کے ابتدائی دو ماہ میں تجارتی خسارے میں اضافے پر ایف پی سی سی آئی کو گہری تشویش ہے
کراچی ( 4 ستمبر 2026ء) صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مالی سال - 27 2026 ابتدائی دو ماہ، یعنی جوالئی اور اگست، کے دوران پاکستان کے تجارتی توازن کی تشویشناک صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس عرصے میں ملک کا تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.1 ارب ڈالر ہوگیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ خسارہ 6.025 ارب ڈالر تھا۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں کچھ بحالی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات میں اضافہ درآمدات میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کے معاشی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔عاطف اکرام شیخ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ برآمدات کا درآمدات کے ساتھ رفتار برقرار نہ رکھ پانا صنعتی صالحیت یا کاروباری جذبے کی کمی کا نتیجہ نہیں؛بلکہ کاروبار کرنے کی بڑھتی ہوئی الگت کا براِہ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی صنعتوں کو شدید مشکالت کا سامنا ہے، جس کے باعث وہ عالمی منڈیوں میں عالقائی حریفوں کے مقابلے میں اپنی مسابقتی حیثیت برقرار رکھنے سے قاصر ہوتی جا رہی ہیں۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے صنعتی پیداوار کو متاثر کرنے والی اہم شرح سود سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مرکزی بینک کی بلند پالیسی شرح ِ رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بلند صنعت اور تجارت کے ہموار آپریشن میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی صنعت اتنا منافع کمانے کی پوزیشن میں نہیں کہ اتنے مہنگے قرضوں کی الگت برداشت کرسکے۔ اس صورتحال نے نجی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی کو محدود کردیا ہے اور مینوفیکچررز کے لیے ورکنگ کیپیٹل حاصل کرنے اور ضروری طویل مدتی ماڈرنائزیشن میں سرمایہ کاری کرنا مشکل بنا دیا ہے۔عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اور بال روک ٹوک اضافہ، جس کی بڑی وجوہات میں بھاری کیپیسٹی چارجز اور کراس سبسڈی کا بوجھ ناممکن بنا چکا ہے۔ ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے زور دیا شامل ہے، فیکٹریوں کے لیے پیداوار میں توسیع تقریباً کہ جب تک بجلی کے نرخ عالقائی مسابقت کے مطابق نہیں کیے جاتے، اہم برآمدی شعبے مسلسل کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کرتے اور عالمی منڈی میں اپنا حصہ کھوتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں اور اس کی بڑھتی ہوئی الگت نے برآمد کنندگان کے محدود منافع کو مزید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ بین االقوامی آرڈرز حاصل کرنے میں مشکالت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں بھی ایک بڑی ِ درون ملک الجسٹکس، سپالئی چین اور مال برداری کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ کرتی ہیں۔ اس رکاوٹ ہیں، جو ان کے نتیجے میں برآمدی اشیاء کی الگت بندرگاہوں تک پہنچنے سے پہلے ہی نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔صدرایف پی شرح سود اور انتہائی مہنگے ِ سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ مقامی صنعتیں خطے میں سب سے بلند توانائی کے اخراجات کے بوجھ تلے دب رہی ہیں۔ اس صورتحال میں مقامی مینوفیکچرنگ سکڑتی ہے اور ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے معیشت مہنگی درآمدات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک تباہ کن چکر ہے، جو تجارتی خسارے میں مزید اضافے، برآمدی آرڈرز میں کمی اور قومی خزانے پر شدید دباؤ کا باعث بنے گا۔صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وزیراعظم، ِ وزارت خزانہ، ِ وزارت تجارت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر کاروباری برادری کے ساتھ بیٹھ کر موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک ہنگامی حکم ِت عملی مرتب کریں۔صنعتی یونٹس کی بڑے پیمانے پر بندش روکنے اور مالی سال 2027 کے برآمدی اہداف کو محفوظ بنانے کے لیے ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتی پیداوار کے لیے سستے اور قاب ِل رسائی سرمائے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پالیسی ریٹ میں جارحانہ انداز میں کمی کی جائے؛بجلی اور گیس کے نرخوں کو فوری طور پر معقول بنایا جائے اور انہیں عالقائی مسابقتی سطح کے برابر الیا جائے؛سامان کی نقل و حمل کے اخراجات کم کرنے کے لیے پٹرولیم لیویز میں ہدفی ریلیف فراہم کیا جائے۔ایف پی سی سی آئی نے خبردار کیا کہ اگر ان بنیادی مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو صنعتی سرگرمیوں، برآمدات اور ملکی معاشی استحکام پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی



