FORGOT YOUR DETAILS?

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برآمدی مسابقت میں بڑی رکاوٹ ہیں عاطف اکرام شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

کراچی (31 اگست 2026ء): صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کی قیمتوں کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر ،(HSD)کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات، بالخصوص ہائی اسپیڈ ڈیزل متوازن کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے؛ تاکہ پاکستان میں کاروبار کرنے کی غیر معمولی بڑھتی ہوئی الگت میں نمایاں کمی الئی جا سکے۔عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ ایندھن کی قیمتوں کا موجودہ طریق کار ملک بھر میں الجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور زرعی سپالئی چین کے اخراجات میں غیر متناسب اضافہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیزل ہمارے ٹرانسپورٹ، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ ڈیزل کی بلند قیمتوں کے باعث مہنگائی میں مسلسل اضافے کے اثرات انتہائی سنگین ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ اگر پاکستان اپنی صنعتوں کو عالقائی سطح پر مسابقت کے قابل رکھنا اور برآمدات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو حکومت کو ایندھن کی قیمتوں کے حوالے کے ذریعے (PDL)سے حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی، بجائے اس کے کہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی پیٹرولیم مصنوعات کو حکومتی آمدنی کے بنیادی ذرائع میں شامل رکھا جائے۔عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ اگرچہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی ایندھن کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے، تاہم ملک میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور دیگر ٹیکسز کا بھاری بوجھ عائد ہونے کے باعث چھوٹے اور درمیانے ناقاب ِل اور بڑے صنعتی اداروں، دونوں کے لیے کاروباری الگت (SMEs)درجے کے کاروباری اداروں برداشت ہوتی جا رہی ہے۔وزار ِت خزانہ اور وزار ِت توانائی سے اپیل کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں کو مناسب سطح پر النے سے اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے اخراجات برا ِہ راست کم ہوں گے؛ جس سے مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے پیداواری شعبے اور عام صارفین دونوں کو فوری ریلیف مل سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے ٹریکٹرز اور ٹیوب ویل چالنے کے اخراجات بھی کم ہوں گے؛ جس سے ملکی سطح پر خوراک اور زرعی اجناس کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔برآمدی مسابقت کے اہم مسئلے پر بات کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں شدید مشکالت کا سامنا ہے۔ حالیہ تقابلی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں عالقائی اوسط سے تجاوز کر چکی ہیں؛ جس کی بنیادی وجوہات میں بھاری پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی شامل ہے۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کے برآمدی حریف ممالک، جن میں بھارت، بنگلہ (PDL) دیش اور ویتنام شامل ہیں، نے اپنے توانائی کے اخراجات کے دباؤ کو زیادہ مؤثر انداز میں منظم کیا ہے اور اپنی صنعتوں کو ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اور بڑے اضافے کے اثرات سے کسی حد تک محفوظ رکھا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک پاکستان میں کاروبار کرنے کی الگت عالقائی ممالک کے مقابلے میں مسابقتی سطح پر نہیں آتی اور الجسٹکس کے اخراجات کم نہیں کیے جاتے، پاکستانی صنعتوں کو بڑے پیمانے پر بندش اور عالمی منڈی میں اپنے حصے میں شدید کمی کے خطرے کا سامنا رہے گا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ کاروباری برادری کو سہولت فراہم کیے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں ازس ِر جائزہ لیا جائے نے حکومت پر زور دیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر موجودہ ٹیکس اور لیوی مارجنز کا نو اور صنعت کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ ریلیف فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی حکومت کے ساتھ مل کر کاروبار دوست معاشی پالیسیوں کی تشکیل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے، ایسی پالیسیاں جو صنعتی ترقی کو فروغ دیں، برآمدات میں اضافہ کریں اور ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔

سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

TOP