FORGOT YOUR DETAILS?

ای سی او سی سی آئی نے پاکستان–ترکیہ مشترکہ بزنس میٹنگ کی تجویز پیش کر دی، دوطرفہ تجارت کا ہدف 5 ارب ڈالر حاصل کرنے میں مدد ملے گی — عاطف اکرام شیخ، صدر ای سی او سی سی آئی و ایف پی سی سی آئی

ور فیڈریشن آف (CCI ECO)کراچی (9 جوالئی 2026ء): اقتصادی تعاون تنظیم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پلیٹ فارم کے CCI ECO کے صدر عاطف اکرام شیخ نے (FPCCI)پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون سے (TOBB)تحت ایف پی سی سی آئی اور ترکیہ کی یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈیٹی ایکسچینجز پاکستان–ترکیہ مشترکہ بزنس میٹنگ منعقد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ تجویز حالیہ دنوں استنبول میں پاکستان کے اعظم ِ کو باضابطہ طور پر ارسال کی گئی TOBB وزیر اور ترکیہ کے صدر کے درمیان ہونے والی مالقات کے بعد ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت کو 5 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے واضح سمت فراہم کر دی ہے اور اب پاکستان اور ترکیہ کے نجی شعبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کاروباری روابط، سرمایہ کاری شراکت داری اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دے کر ان کوششوں کو مزید تقویت دیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کے باوجود دوطرفہ تجارت اب بھی اپنی حقیقی صالحیت سے بہت کم ہے۔ سال 2025 میں پاکستان کی ترکیہ کو برآمدات کا حجم 369.2 ملین ڈالر جبکہ ترکیہ سے درآمدات 866.5 ملین ڈالر رہیں، جس کے نتیجے میں مجموعی دوطرفہ تجارت 1.236 ارب ڈالر تک پہنچی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ تجارت میں توسیع اور تنوع کے وسیع مواقع موجود ہیں۔صدر ای سی او سی سی آئی و ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ پاکستان کی ترکیہ کو اہم برآمدات میں چاول، ٹیکسٹائل یارن اور کپڑے، ملبوسات، چمڑا اور چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کا سامان، جراحی کے آالت، قالین اور زرعی مصنوعات شامل ہیں۔ دوسری جانب ترکیہ پاکستان کو مشینری، لوہے اور اسٹیل کی مصنوعات، کیمیکلز، برقی آالت، پالسٹک، پراسیسڈ فوڈ مصنوعات اور تعمیراتی سامان برآمد کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی صنعتی اور تجارتی صالحیتوں میں نمایاں ہم آہنگی موجود ہے، جسے بروئے کار ال کر دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ مجوزہ پاکستان–ترکیہ مشترکہ بزنس میٹنگ میں دونوں ممالک کے نمایاں کاروباری افراد، برآمد کنندگان، سرمایہ کاروں اور مختلف شعبہ Joint)جاتی تنظیموں کو مدعو کیا جائے گا؛ تاکہ باہمی تعاون کے نئے مواقع تالش کیے جا سکیں، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے، سپالئی چین روابط مضبوط کیے جا سکیں اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں (Ventures سرمایہ کاری کو بڑھایا جا سکے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ یہ اجالس دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے مقرر کردہ 5 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کے لیے عملی تجاویز مرتب کرنے کا بھی (ECO)ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور ترکیہ اقتصادی تعاون تنظیم ڈی8- چیمبر آف ،(ICCD)کے اہم رکن ممالک ہیں جبکہ دونوں ممالک اسالمی چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ جیسے پلیٹ فارمز پر بھی قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ CACCI کامرس اینڈ انڈسٹری اور یہ عالقائی پلیٹ فارمز اقتصادی انضمام، تجارت میں سہولت کاری اور نجی شعبے کے تعاون کو فروغ دینے میں اہم اور ایف پی سی سی TOBB ،کردار ادا کر سکتے ہیں۔عاطف اکرام شیخ نے امید ظاہر کی کہ ای سی او سی سی آئی آئی کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے دونوں ممالک کی کاروباری برادری اپنے رہنماؤں کے وژن کو عملی اقتصادی نتائج میں تبدیل کرنے اور ایک مضبوط، متحرک اور دیرپا پاکستان–ترکیہ اقتصادی شراکت داری قائم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرے گی۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائرڈ۔

سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی

TOP