وومن چیمبرز کے لیے ریگولیٹری دستاویزات میں ترمیم کی فیس میں 50 فیصد کمی کی درخواست عاطف اکرام شیخ، صدرایف پی سی سی آئی
کراچی(02 مارچ 2026ء): صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ نے حکومت ِش نظر پاکستان کی ٹریڈ اورکراچی (3 مارچ 2026) صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وزار ِت تجارت، اسالم آباد کے تحت ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر جنرل سے درخواست کی ہے کہ وومن چیمبرز کے میمورنڈم اور آرٹیکلز (DGTO) جنرل آف ٹر یڈ آرگنائزیشن آف ایسوسی ایشن میں ترمیم کی فیس میں 50 فیصد کمی کی جائے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے ملک بھر میں ِر انتظام کاروبار ی اداروں کی نمائندگی کرنے والی ان اہم ٹریڈ باڈیز کے لیے فوری ریلیف دینے پر خواتین کی ملکیت اور زی زور دیا ہے اور کہا کہ ہے خواتین ملک کی کل آبادی کا 52 فیصد حصہ ہیں۔انہوں نے واضح کیا ہے کہ یہ اپیل حالیہ نوٹیفکیشن کے تناظر میں کی گئی ہے؛ جس کے تحت دستاویزی ترامیم کی فیس تمام تجارتی اداروں کے لیے 100,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے واضح کیا کہ تجارتی تنظیمیں یہ تبدیلیاں اپنی مرضی سے نہیں کر رہیں؛ کی جانب سے جاری کردہ نئے ریگولیٹری احکامات کی تعمیل کے لیے اپنے آئینی دستاویزات میں ترامیم کر رہی DGTO بلکہ کو ملک بھر کی مختلف وومن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے متعدد FPCCI ہیں۔مذکورہ اعالن کے بعد درخواستیں موصول ہورہی ہیں؛ جن میں نئی مقررہ فیس میں مالی ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ ملک کی اعل ٰی ترین ٹریڈ باڈی یعنی کہ ایف پی سی سی آئی نے ریگولیٹر کو درخواست کی ہے کہ وومن چیمبرز عموما محدود مالی وسائل اور کم آمدنی کے ساتھ کام کرتی ہیں؛ جوکہ زیادہ تر صرف ممبرشپ فیس پر ً منحصر ہوتی ہے۔ ان مالی مشکالت کے باوجود یہ چیمبرز خواتین کی کاروباری صالحیتوں کو فروغ دینے، استعداد کار میں اضافہ کرنے اور نچلی سطح سے قومی سطح تک خواتین کی قیادت میں کاروبار ی سر گرمیوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ لٰہذا، ٹی او آر 2013 کے شیڈول’ای‘کے تحت ان چیمبرز کی معاونت کے لیے مذکورہ باال دستاویزات میں ترمیم کی فیس میں 50 فیصد خصوصی رعایت ناگزیر ہے۔ سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ 50 فیصد رعایت دینے سے خواتین چیمبرز کو ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل میں نمایاں سہولت ملے گی اور وہ خواتین کاروباری افراد کو بااختیار بنانے اور ان کی وسیع تر معاشی شمولیت کو فروغ دینے میں اپنا کلیدی کردار جاری رکھ سکیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہایف پی سی سی آئی ُپر امید ہے کہ یہ معاون اقدام نہ صرف وومن چیمبرز کی ادارہ جاتی ترقی کو مضبوط کرے گا؛ بلکہ حکومت کے خواتین کو بااختیار بنانے اور جامع معاشی ترقی کے وژن سے بھی براِہ راست ہم آہنگ ہوگا
بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی (ایم)، ریٹائر
ڈ۔
سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی


