FORGOT YOUR DETAILS?

یف پی سی سی آئی اور اسٹیٹ بینک کے درمیان مذاکرات کامیاب؛ زیر التوا ایل سیز کو کلیئر کیا جائے گا

کراچی(23 جنوری 2023 :)صدرایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز یا ان ٹرانزٹ کنسائمنٹس کی زیر التواء ایل سیز کی کلیئرنس کی اجازت دینے کے لیے پیر کے روز کے اسٹیٹ بینک کے پالیسی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ ڈی ٹینشن چارجز، ڈیمریجز، صنعتی پیداوار کے لیے خام مال کی قلت، بڑے صنعتی یونٹس کی بندش، زرعی ان پٹ کی فراہمی میں رکاوٹ، مشینری اور آالت کے اسپیئر پارٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے پالنٹس کی بندش، برآمدی آرڈرز کی تکمیل، پیداوار میں کمی اور بڑے پیمانے پر بیروزگاری اور محصوالت کی کمی کاسبب بن رہا ہے۔ عرفان اقبال شیخ نے روشنی ڈالی کہ اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان درآمد کنندگان کو سہولت فراہم کریں کہ جو اپنی ادائیگی کی مدت 180 دن یا اس سے زیادہ تک بڑھا سکتے ہیں۔مزید برآں، ان درآمد کنندگان کو بھی سہو لت فراہم کی جا ئے جو بیرون ملک سے اپنی درآمدی ادائیگیوں کے لیے فنڈز کا بندوبست کر سکتے ہیں۔اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کو یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ وہ ان شپمنٹس کی دستاویزات جاری کردیں جو پاکستان کی کسی بندرگاہ پر پہلے ہی پہنچ چکی ہیں یا جو 18 جنوری 2023 یا اس سے پہلے سے ٹرانزٹ میں ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک نے ایف پی سی سی آئی کے اصرار پر کراچی میں ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا اور تاجروں و صنعتکاروں کی شکایات کو تفصیل سے سنا۔ سیشن میں ملک کے تمام چیمبرز، ٹر یڈ باڈیز اورایسو سی ایشنزکی سینکڑوں ممتاز شخصیات کی شرکت دیکھنے میں آئی۔جنہو ں نے یا تو وہ ذاتی طور پر یا مختلف شہروں اور ممالک سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ عرفان اقبال شیخ نے بتایا کہ ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک کو اس سلسلے میں قائل کرنے کے لیے بہت محنت کی ہے کیونکہ بہت سی صنعتیں پہلے ہی اپنے پیداواری یونٹس بند کر چکی ہیں اور بہت سے صنعتی یونٹ بھی ایسا کرنے والے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف پی سی سی آئی نے تمام کاروباری برادری کے لیے وسیع تر قومی مفاد میں یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے تاجر برادری کا بالعموم اور ایف پی سی سی آئی کے عہدیداروں و ممبران کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس سلسلے میں بھرپور کوششیں کیں اور امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے تاجر برادری کے اس مسئلے کوحل کروانے کے لیے ہر ممکن پلیٹ فارم استعمال کیا۔ عرفان اقبال شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کی کڑی نگرانی کرے تاکہ اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے؛ کیونکہ یہ ہزاروں کارخانوں اور الکھوں مالزمتوں کی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی نے تجویز دی ہے کہ اس فیصلے کا اطالق کرتے وقت برآمدات پر مبنی صنعتوں؛ کھانے پینے کی اشیاء؛صنعتی خام مال؛ توانائی پیدا کرنے والی درآمدات اور زرعی ان پٹ پر مبنی درآمدات کوترجیح دی جائے

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی(ایم)، ریٹائرڈ

سیکرٹری جنرل

TOP