FORGOT YOUR DETAILS?

کے الیکٹرک نے کراچی کے صنعتی اور کمرشل صارفین کو بہتر سپالئی کی یقین دہانی کروائی ہے

کراچی (26 ستمبر 2022 )صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے کراچی کی کاروباری، تاجر اور صنعتی برادری کو آگاہ کیا ہے کہ فیڈریشن ہاؤس میں کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو کے ساتھ ایک اعل ٰی سطحی،تفصیلی اور دو ٹوک گفتگو میں ایف پی سی سی آئی کی جانب سے کراچی شہر کو بالعموم اور خاص طور پر کمرشل مراکز اور صنعتی عالقوں کو بجلی کی فراہمی کے دیرینہ مسائل؛ بشمول لوڈ شیڈنگ، بریک ڈاؤن، مرمت اور دیکھ بھال کے نام پر غیرا عالنیہ شٹ ڈاؤن،ٹرانسمیشن و ڈسٹر بیوشن کے مسائل، دائمی بدانتظامی اور اوور بلنگ کو ڈسکس کیا گیا۔صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ فیکٹریاں کبھی بند نہیں ہوتی ہیں اوروہ 24 / 7 / 365 کی بنیادوں پر کام کرتی ہیں اور تیسری دنیا کے ممالک میں بھی صنعتی عالقوں کو بالتعطل بجلی فراہم کرنا ایک معمول کی بات ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایکسپورٹ مارکیٹس میں گڈ ول اور ساکھ ہی سب کچھ ہوتا ہے اور ایکسپورٹ آرڈرز کی ڈیڈ الئن مس ہو جانے کے بعد دوبارہ آرڈرز حاصل کرنا اور ایکسپورٹ کالئنٹس تک رسائی ناممکن ہو جاتی ہے۔صدرایف پی سی سی آئی نے وضاحت کی کہ روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر اور اتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت کو فوری طور پر حرکت میں آنا چاہیے اور اگر حکومت روپے کو اس کی حقیقی موثر کی قدر تک مستحکم اور مضبوط کرنے میں ناکام رہتی ہے تو دوسری صورت میں جب تمام بلنگ REER ایکسچینج ریٹ یعنی سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، فکسڈ چارجز، وغیرہ جمع کر لیے ،(FCA)عناصر، یعنی فی یونٹ بیس ٹیرف، فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز جائیں تو صنعتیں فی یونٹ 60رو پے سے بھی زائد کے حساب سے بجلی کے بل ادا کرنے کی بجائے اپنی فیکٹر یاں بند کرنے کو ترجیح دیں گی۔ سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی سلیمان چاولہ نے اپنے گہرے خدشات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ 220 ملین کی آبادی والے ملک کا صنعتی، تجارتی، مالیاتی اور سپالئی چین کا مرکز ہونے کے باوجود اور تمام محصوالت کا 60 فیصد حصہ دار ہونے کے باوجود کراچی ایک طویل عر صے سے بجلی کی فراہمی میں تعطل اور رکاوٹوں کی وجہ سے نقصان بر داشت کر رہا ہے۔ سلیمان چاولہ نے تاجر برادری کے، کے الیکٹرک کے لیے اس مطالبے کو دہرایا کہ وہ فرسودہ پاور پالنٹس اور ٹرانسمیشن و ڈسٹر بیوشن کے نقصانات کو کم کرے؛ تاکہ اس کی پیداواری الگت کو کم کیا جا سکے اور صنعتوں کو فائدہ پہنچاتے ہو ئے ان کے کاروبار کرنے کی الگت کو کم کیا جا سکے؛ جس کی وجہ سے وہ تمام عالقائی، ذیلی عالقائی اور بین االقوامی حریفوں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے شہر کو بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے اور اعل ٰی ادارے کے پلیٹ فارم سے شہر بھر کی کاروباری، صنعتی اورتا جر برادری کے ساتھ باقاعدہ روابط رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے صنعت کو بالتعطل بجلی کی فراہمی کے مطالبے سے بھی اتفاق کیااور مرمت و دیکھ بھال کی SSGC سرگرمیوں کی بہتر منصوبہ بندی اور،اوور بلنگ کے مسائل کو ختم کرنے کا وعدہ کیا۔مو نس علوی نے مزید کہا کہ کے ساتھ سستی گیس کی زیادہ فراہمی کے PLL ان کے جنریشن پالنٹس کو مطلوبہ گیس فراہم نہیں کر رہا ہے اورکے الیکٹر ک لیے بات چیت کر رہی ہے؛ تاکہ یوٹیلیٹی کمپنی بجلی کی کم الگت پیداوار کے لیے مسابقتی ذرائع کو یقینی بنا سکے۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی(ایم)، ریٹائرڈ

سیکرٹری جنرل

TOP