FORGOT YOUR DETAILS?

سٹیٹ بینک کاچیپٹر84 اور 85 کے تحت ڈالر پیمنٹس کو کلیئر کرنے پر اتفاق:عرفان اقبال شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

پریس

ریلیز وفاق ایوانہائے تجارت وصنعت پاکستان

سٹیٹ بینک کاچیپٹر84 اور 85 کے تحت ڈالر پیمنٹس کو کلیئر کرنے پر اتفاق:عرفان اقبال شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

کراچی )21 ستمبر 2022 )صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے پاکستان کی تمام کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری کو آگاہ کیا ہے کہ فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے اس کے سینئر نائب صدر اور ایف پی سی سی آئی کے فوکل پرسن برا ئے اسٹیٹ بینک معامالت سلیمان چاؤلہ کی قیادت میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ مذاکرات میں اسٹیٹ بینک نے تمام بیک الگ اور پھنسے ہوئے ادائیگیوں کے معامالت جوکہ کسٹم ٹیرف کے ا بواب 84 اور 85 کے تحت آتے ہیں اور اگر ان کی انوائس کی مالیت پچاس ہزار ڈالر تک ہے توان ادائیگیوں کو دو دن کے اندر کلیئر کرنے پر اتفاق کیا ہے؛ جو کہ ایف پی سی سی آئی کی ایک بڑی اور اہم کامیابی ہے۔ عرفان اقبال شیخ نے مزید کہا کہ ایف پی سی سی آئی درآمد کنندگان کی ڈالر کی ادائیگیوں کی کلیئرنس کے معاملے پر گزشتہ چند ماہ سے انتھک محنت کر رہا ہے اور باآلخر ایف پی سی سی آئی اوراسٹیٹ بینک کے درمیان مشاورتی اجالسوں کے متعدد تفصیلی دوروں کے بعد مرکزی بینک نے اصولی طور پرپچاس ہزار ڈالر اور اس سے کم کی تمام ادائیگیوں کو کلیئر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ سلیمان چاولہ نے بتایا کہ انہوں نے ایف پی سی سی آئی کی جانب سے اس معاملے پر پیش رفت کے بارے میں ایک سر کلربھی جاری کر دیا ہے؛ تاکہ فیڈریشن کے تمام ممبران اور اسٹیک ہولڈرز کو آگاہی حاصل ہو جا ئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف پی سی سی آئی کو گزشتہ چند مہینوں سے پاکستان بھر سے پابندیوں سے متاثر ہونے والے مختلف سیکٹرز سے روزانہ متعدد کالز موصول ہو رہی ہیں؛ جو کہ 84 اور 85 کے تحت آنے والے خام مال اور آالت پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں اور ایف پی سی سی آئی پ ُر امید ہے کہ مذکورہ باال زمرہ کے تحت آنے والی تمام ادائیگیاں اس ہفتے کے اندر کلیئر کر دی جائیں گی۔سلیمان چاولہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کمرشل امپورٹرز اور مینوفیکچررز کو پابندیوں کی وجہ سے بہت نقصان ہوا ہے؛کیونکہ ان پا بندیوں کا اعالن اچانک اور بغیر کسی ہوم ورک یا مشاورت کے کیا گیا تھا۔انہو ں نے مزید کہا کہ گورنمنٹ اتھارٹیز کو احتیاط کے ساتھ صرف لگژری آئٹمز پر پابندیوں کا نفاذ کرنا چاہیے تھااور جس کے نتیجے میں کاروباری برادری کو ڈیمریجز، کنٹینر چارجز اور پورے نا ہونے والے برآمدی آرڈرز میں کروڑوں ڈالر کی بچت ہوسکتی تھی۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی )ایم(، ریٹائرڈ

سیکرٹری جنرل

TOP