FORGOT YOUR DETAILS?

تعاون کا آغاز:عرفان اقبال شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی B2B پاکستان اورا سکاٹ لینڈ کے درمیان بڑے پیمانے پر

کراچی (27 ستمبر 2022 )صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے ملک کی تمام کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان اور اسکاٹ لینڈ نے اسکاٹش چیمبر آف کامرس کے ساتھ بڑے پیمانے پربز نس ٹو بزنس تعاون کا آغاز کر دیا ہے اور یہ تعاون کا معاہدہ پاکستانی کمپنیوں کو تقریباً 15000 بڑی اسکاٹش کمپنیو ں تک رسائی فراہم کرے گا۔ انہوں نے جوائنٹ وینچرز اوربزنس ٹو بزنس روابط کے حوالے،(FDI(مزید کہا کہ یہ معا ہدہ برآمدات کے فروغ، فا رن ڈائریکٹ انویسمنٹ سے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔اسکاٹ لینڈ کا دورہ کرنے والے پاکستانی وفد کی سربراہی ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نائب صدر سلیمان چاؤلہ کر رہے ہیں اور اس میں پاکستان کے ممتاز صنعتکار شامل ہیں؛ جن میں اسکاٹ لینڈ، یو کے اور یورپی یونین ممالک کے سرکردہ تاجر رہنما بھی شامل ہیں۔ سلیمان چاولہ نے کہا کہ اس معاہدے کی ایک بڑی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اسکاٹ لینڈ کے 30 عالقائی چیمبرز بھی اس معا ہدے کے تحت پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے؛ یہ عالقائی چیمبرز اسکاٹ لینڈ کے بڑے تجارتی، صنعتی اور مالیاتی مراکز کی نمائندگی کرتے ہیں، جن میں ایڈنبرا، گالسگو، ایبرڈین وغیرہ شامل ہیں۔واضح رہے کہ سلیمان چاولہ اورا سکاٹش چیمبرز آف کامرس کی چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر لز کیمرون نے گالسگو میں پاکستان کے قونصل جنرل سید زاہد رضا اور دیگر اعل ٰی سطحی سفارتی حکام کی موجودگی میں معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔سابق صدر ایف پی سی سی آئی میاں ناصر حیات مگوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کے لیے معا شی طور پر سروائیو کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ جنگی بنیادوں پر برآمدات کو بڑھایا جا ئے اور صنعتکاری کو فروغ دیا جائے؛تا کہ ناقابل برداشت تجارتی خسارے کو کنٹرول کیا جا ئے،جو کہ مالی سال 2022 میں 66.48 ارب ڈالر تھا؛ زرمبادلہ کے ذخائر کو کم کیا جائے، جو کہ مالی سال 2022) CAD (کو قابل ذکر لیول تک برقرار رکھا جا ئے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے (FER( کے چیئرمین عمران خلیل نصیر نے کہا کہ (PUKBC (میں 4.17ارب ڈالر تھا۔ایف پی سی سی آئی کی پاک-یوکے بزنس کونسل ا سکاٹ لینڈ دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جن کے ساتھ پاکستان کو دو طرفہ تجارتی سرپلس حاصل ہے؛ جیسا کہ اسکا ٹ لینڈ کو ہماری برآمدات75 ملین پا ونڈزاور درآمدات14ملین پا ونڈز ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ شراکت داری کے نئے ؛ کیپٹل مارکیٹس؛FinTech معاہدے سے فائدہ اٹھانے والے معیشت کے بڑے شعبوں میں بینکنگ اور مالیاتی خدمات، بشمول ؛ زراعت اور فوڈ پروسیسنگ؛(LSM (ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائلز؛ مہمان نوازی،فوڈ اور سیاحت کی صنعت؛الرج اسکیل مینوفیکچرنگ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کنزیومر گڈز کی صنعتیں شامل ہیں۔ پاکستانی قونصلیٹ میں اسکاٹ لینڈ کے لیے پاکستان کے تجارت اور سرمایہ کاری کے سیکرٹری محمد اختر اورعمران خلیل نصیر نے مشترکہ طور پر اسکاٹ لینڈ کے سرمایہ کاروں اور انٹر پرنیورز کے لیے کاروباری مواقع اور امکانات کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی )ایم(، ریٹائرڈ

سیکرٹری جنرل

 

TOP