FORGOT YOUR DETAILS?

ایف پی سی سی آئی مانیٹری پالیسی کو غیر سود مند اور اینٹی بزنس سمجھتا ہے:عرفان اقبال شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

کراچی (24 جنوری 2023 )صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے پیر کے روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی اضافے کے ساتھ 17 فیصد کر دینے (bps)کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹ ( MPC )مانیٹری پالیسی کمیٹی کو کاروبار مخالف اور معاشی ترقی کے مخالف قرار دیتے ہوئے اپنی گہری مایوسی اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تاجر، صنعتکار اوربز نس کمیونٹی صدمے کا شکار ہے اور اب پریشان ہے کہ معاشی سرگرمیوں، پاکستان میں کاروبار کومنافع بخش رکھنے اور برآمدات پر اس کے ناگزیر منفی اثرات سے کیسے نمٹا جائے گا؛ ان حاالت میں کہ درآمد کنندگان، صنعتکاروں اور ایس ایم ایز کے لیے کسی قسم کا حکومتی تعاون، مراعات یا سہولیا ت موجود نہیں ہیں۔عرفان اقبال شیخ نے وضاحت کی کہ ماہرین اقتصادیات کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ مہنگائی کی موجودہ لہر کسی بھی طرح ڈیمانڈ ُپل رجحان نہیں ہے؛ لیکن تمام اشاریوں کے لحاظ سے یہ ایک کاسٹ پش رجحان ہے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ اس وقت ہمیں جس چیز کی ضرورت تھی وہ ایک معاشی تر قی کو بڑھاوا دینے والی توسیعی مالیاتی پالیسی تھی؛لیکن ایک بار پھر اسٹیٹ بینک نے ایک اینٹی بزنس اور اینٹی گروتھ مانیٹری پالیسی دی ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر پاکستان میں پا لیسی ریٹ اور برآمدی ری فنانسنگ کی شرح میں بڑی کمی نہ کی گئی تو ہم عالقائی ممالک کے ساتھ بھی مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ رسمی بینکنگ چینلز کو کاروباروں کی فنانسنگ کی ضروریات کے لیے رسائی سے دور کرنے سے غیر رسمی معیشت کو فروغ ملے گا۔حقیقی عوامل کا خاکہ پیش کرتے ہوئے عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ کو SMEs روپے اور ڈالر میں عدم استحکام، سیاسی اور اقتصادی ماحول میں غیر یقینی صورتحال اور شرح سود میں اضافہ مکمل طور پر کچل دے گا؛ جیسا کہ کاروبار کرنے کی الگت، کاروبار کرنے میں آسانی، سرمائے تک رسائی، زرمبادلہ تک رسائی اورکاروباروں کا منافع بخش رہنا سب کچھ ناممکن ہو جائے گا۔ عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ اگر حکام نے فوری مداخلت نہ کی تو بہت زیادہ کاروباری ادارے دیوالیہ ہو جائیں گے؛ بہت سے برآمدی آرڈرز پورے نہیں ہوں گے؛ روزگار کے مواقع کا بہت زیادہ نقصان ہو گا اور ٹیکس ریونیو میں کمی آئے گی۔ انہوں نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ فوری طور پر مشاورتی عمل شروع کریں تاکہ موجودہ بحرانوں سے نکلنے کا قابل عمل راستہ تالش کیا جا سکے۔

بریگیڈیئر افتخار اوپل، ایس آئی(ایم)، ریٹائرڈ

سیکرٹری جنرل

TOP