Press Release

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر خالد تواب نے EOBIکی جانب سے نوٹس پر تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ

ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کرا چی(۷ اپریل ۲۰۱۶) ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر خالد تواب نے EOBIکی جانب سے نوٹس پر تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ EOBIکونئی ترمیم کے تحت کم سے کم اجرت والے ملازمین سے بقایاجات وصولی کرنی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ EOBIکا یہ رویہ نہایت غیر مناسب ہے جس کے تحت EOBIجولائی 2012سے ملازمین کے بقایاجات کی مانگ کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بزنس کمیونیٹی پہلے ہی کئی مسائل سے دوچار ہے اور ایسی صورت میں اِس طرح کے نوٹسس کا ملنا تاجر برادری کو مزید مسائل میں دھکیلنا ہے۔ خالد تواب نے کہا کہ EOBIکو اپنے نئے نرخ کی معلومات تمام صنعتکار اور تاجروں کو وصولی کے نوٹس بھیجنے سے پہلے فراہم کرنی چاہیے۔ جبکہ غیر ہنر مند ملازمین کی کم سے کم اجرت کا تعین صوبائی سطح پہ مختلف اوقات میں تبدیل ہوتا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ EOBI کو صوبائی سطح پہ ایک بار کم سے کم اجرت کا تعین کرنا چاہیے۔

خالد تواب نے کہا کہ تاجر برادری باقاعدگی سے قانونی طور پر تمام معاملات بخوبی پوری کررہی ہے اور EOBIکے واجبات بھی ادا کر رہی ہے۔ مگر EOBIکی طرف سے ایسے نوٹسوں کا وصول ہونا بزنس کمیونیٹی کی ساخت کو تباہ کرنے جیسا ہے۔ جبکہ دوسری جانب بزنس کمیونیٹی کا 200بیلین روپیہ سیلز ٹیکس، ڈیوٹی ڈرابیک اور ریبیٹس کی شکل میں پھنسا ہوا ہے جوریفنڈنہیں ہورہا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ EOBIکی جانب سے بقایاجات کے اچانک دعوے سے کاروبار برُی طرح متاثر ہوگاجس سے بے روزگاری میں اِضافہ ہوگا۔ خالد تواب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ EOBIفوری طور پر نوٹس واپس لے اور EOBIنئی احکامات کے مطابق کم سے کم اجرت کے تحت وصولی کرے۔



مہر عالم خان قائم مقام سیکریٹری جنرل( ایف پی سی سی آئی )