Press Release

ایف پی سی سی آئی نے کھٹمنڈو میں پاکستان کی سنگل کنٹری ایگزیبیشن پر زور دیا

ایف پی سی سی آئی نے کھٹمنڈو میں پاکستان کی سنگل کنٹری ایگزیبیشن پر زور دیاایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کرا چی(۱۴ مارچ ۲۰۱۶)صدر ایف پی سی سی آئی عبدالر ؤ ف عالم نے نیپال کے سابق وزرائے اعظم جئے ناتھ خنال اور مادھو کمار سے اپنی رہائش گاہ پہ ملا قات کی اور کہا کہ پاکستان اور نیپال کافی عرصے سے دوستانہ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں مگر SAARCکے ایک اہم رکن ہونے کے ناطے دونوں ممالک دو طرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی حقیقی عکاسی نہیں کررہے۔

رٗوف عالم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نیپال اور پاکستان کے درمیان سرکایاکاری کے مواقع کو فروغ دینے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری وفود کا تبادلہ ضروری ہے۔ اُنہوں نے ایف پی سی سی آئی کی جانب سے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی، اُنہوں نے بتایا کہ 2014میں پاکستان نیپال تجارت 1.78ملین ڈالر رہی جس میں پاکستانی برآمدات 0.84ملین ڈالر اور نیپالی درآمدات 0.94ملین ڈالر شامل ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا پاکستان چائے کا سب سے بڑا صارف اور نیپال پروڈیوسر ہے مگر اِس شعبے میں توجہ نہیں دی جا رہی۔ اُنہوں نے نیپال کی جانب برآمدات میں سیاحت، لیدر، گارمنٹس، الیکٹرونک مصنوعات، باسمتی چاول، سرجیکل آلات، اِسپورٹس گڈزاور خشک میواجات کو فروغ دینے پر زور دیا۔ صدر نے کھٹمنڈو میں پاکستان کی سنگل کنٹری ایگزیبیشن اور جوائنٹ بزنس کونسل کے اجلاس کی طرف بھی توجہ دلائی۔

اِس موقع پر نیپال کے سابق وزرائے اعظم نے پاکستانی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے تمام تجاویزات کا خیرمقدم کیا اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا اِرادہ ظاہر کیا۔ اُنہوں نے نیپالی چائے کی پاکستان میں برآمدات کو مزید بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا۔


مہر عالم خان قائم مقام سیکریٹری جنرل( ایف پی سی سی آئی )