Press Release

امتیا زی پا لیسیا ں، حوصلہ شکن رویہ۔ویزوں کی پابندیاں اور دیگر نان ٹیرف رکاوٹوں کی وجہ سے ساؤتھ ایشیا میں باہمی تجارت کو فروغ نہیں مل رہا ۔

ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کرا چی(۸ مارچ ۲۰۱۶) فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالرؤف عالم نے کہاہے کہ جنو بی ایشیا ئی ممالک کی علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کے قیام کا بنیادی مقصد جنوبی ایشیا ء میں علاقائی اور اقتصادی تعاون کا فروغ تھا تاکہ خطہ میں سرمایہ کا ری اور تجا ر ت کو وسعت ملے۔جس کیلئے ساؤتھ ایشین ممالک کے درمیان فری ٹریڈرجیم اور اقتصادی تعاون اور تجا ر تی تعلقات کے فرو غ کے مقصد کو حاصل کرنے کیلئےSAFTAکا قیام عمل میں لایاگیا۔اور SAFTAسے متعلق معاملات کو دیکھنا سارک کی دیگر ذمہ داریوں میں سے ایک بڑی ذمہ داری تھی۔لیکن اس اقدام سے جنو بی ایشیا ممالک کے مابین تجا ر ت میں کو ئی بہتری نہیں آئی جو کہ گلو بل ٹریڈ کاصرف5فیصد تک ہے ۔جبکہ NAFTAکی باہمی49%حصہ۔آسیان25%، ECO 9% ، OIC 11%ہے۔

عبدالرؤف عالم نے بتایاکہ SAFTA سا ؤ تھ ایشین فری ٹریڈ ایگریمنٹکی ناکامی کے بعد اندازہ ہوا کہ نان ٹیرف روکاوٹوں کی وجہ سے سارک ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون نہیں بڑھارہا ہے۔تو مسا ویانہ بنیاد پر پارٹنر ممالک اور خصو صا پاکستان اور انڈیا کوMFN پسندیدہ ملککا درجہ دیا جائے جوکہ بعدازا ن تبدیل کرکے بلا امتیاز مارکیٹ رسائی کا درجہ کہلا یاگیا۔لیکن اسکے باوجود بھی ساؤتھ ایشین ممالک کی باہمی تجارت میں بہتری نہیں آسکی۔

عبدالرؤف عالم نے مزید کہا کہ نان ٹیرف رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے سا رک ممالک کے قومی چیمبر ز آف کامر س میںNTMڈیسک بنا ئے گئے تاکہ پارٹنر ملکوں کے درمیان نان ٹیرف رکاوٹوں کی تشخیض ہو سکے اور ان کو دور کرنے کیلئے اقدامات کئے جاسکیں۔لیکن حال ہی میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہNTMسے متعلق معا ملات سارک چیمبر آف کامر س ڈیل کر یگا۔

عبدالرؤ ف عالم نے مزید کہاکہ سا رک چیمبر آف کامر س کی ایگزیکٹوکمیٹی کا اجلاس رواں ماہ نیپال میں منعقد ہو گا اور FPCCIکے صدر کی سر بر اہی میں ایک وفد اس اجلاس میں شرکت کے لئے نیپال جا رہا ہے انہوں نے مزید بتایاکہ سارک چیمبر آف کامر س کا مستقل ہیڈ کوارٹر پاکستان میں ہے۔ جبکہ اس سال اسکی صدارت نیپال کو منتقل ہو جا ئے گی۔ انہوں نے مزید بتایاکہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں نان ٹیرف تجا ر تی رکاوٹوں کے بارے میں تفصیل سے بحث ہو گی۔

روف عالم نے بتایاکہ امتیازی پالیسیاں کسٹم اور دیگر حکام کی جانب سے حوصلہ شکن رویہ۔ویزوں کی پابندیاں اور سختیاں اور دیگر نان ٹیرف رکاوٹوں کی وجہ سے ساؤتھ ایشیا میں با ہمی تجارت کو فروغ نہیں مل رہا۔ انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیپال میں ہونے والی سارک چیمبر آف کامر س کی ایگزیکٹو کمیٹی میں ان مسائل کا حل نکا لا جائیگا۔


مہر عالم خان
قائم مقام سیکریٹری جنرل( ایف پی سی سی آئی )